بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 15/08/2026

دارالافتاء

 

تین طلاق کا حکم


سوال

میرے بیٹے اور اس کی بیوی کے درمیان جھگڑا ہوا اسی دوران اس نے اپنی بیوی سے کہا کہ "تو مجھ پر طلاق ہے تو مجھ پر طلاق ہے تو مجھ پر طلاق ہے" جب کہ بیوی دوسرے کمرے میں تھی اور بیوی کا کہنا ہے کہ میں نے یہ الفاظ نہیں سنے ۔تو شریعت کی رو سے کیا طلاق واقع ہوئی ہے یا نہیں اور اگر واقع ہے تو کتنی طلاقیں واقع ہو چکی ہیں ؟

جواب

اگر کوئی شخص اپنی بیوی کو طلاق کے صریح الفاظ کہے تو طلاق واقع ہوجاتی ہے چاہے بیوی اس کو سنے یا نہ سنے ۔

صورت مسئولہ کے مطابق اگر سائل کے بیٹے نے اپنی بیوی سے تین مرتبہ یوں کہا ہو کہ:"تو مجھ پر طلاق ہے" تو اس سے تین طلاقیں واقع ہوگئی ہیں لہذا اب مذکورہ شخص کے لیے بیوی کے ساتھ ازدواجی زندگی گزارنا ناجائز ہے ۔

وإذا قال لامرأته أنت طالق وطالق وطالق ولم يعلقه بالشرط إن كانت مدخولة طلقت ثلاثا۔(الفتاوى الهندية ،كتاب الطلاق الباب الثاني في إيقاع الطلاق ج1ص355)


فتویٰ نمبر : 6219/297/324

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں