بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 15/08/2026

دارالافتاء

 

قومہ سے سجدہ میں جانے کا طریقہ


سوال

قومہ سے سجدے کی طرف جاتے  ہوئے ہاتھوں کی کیفیت کا مسنون طریقہ کیا  ہے ؟یعنی سیدھا چھوڑنا چاہیے یا گھٹنوں پر ہاتھ رکھ کر جانا چاہیے ،تلاش کے  باوجود بندے کو اس بارے میں کوئی حدیث  نہیں ملی 

جواب

واضح رہے کہ قومہ سے سجدے کی طرف جانے کا مسنون طریقہ یہ ہے کہ گھٹنے زمین پر ٹیکنے سے پہلے کمر اور سینہ نہ جھکائے ،بلکہ کمر سیدھی رکھے ،اگر سجدے میں جاتے ہوئے ہاتھ گھٹنوں پر رکھے جائیں تو اس کا اثر یہ ہو گا کہ گھٹنے زمین پر لگنے سے قبل ہی اوپر کا دھڑ جھک جائے گا اور یہ جھکنا رکوع سے مشابہت  ہو گی لہذا گھٹنوں پر ہاتھ رکھنے کے بجائےچھوڑ دینا زیادہ بہتر ہے۔

ويخر للسجود قائما مستويا لا منحنيا لئلا يزيد ركوعا آخر يدل عليه ما في التاترخانية لو صلى فلما تكلم تذكر أنه ترك ركوعا فإن كان صلى صلاة العلماء الأتقياء أعاد وإن صلى صلاة العوام فلا لأن العالم التقي ينحط للسجود قائما مستويا والعامي ينحط منحنيا وذلك ركوع لأن قليل الانحناء محسوب من الركوع ا هـ تأمل.(ردالمحتار علی  الدرالمختار ج2ص202)


فتویٰ نمبر : 8763/297/321

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں