بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 15/08/2026

دارالافتاء

 

تجارت کی نیت سےخریدے گئے پلاٹ میں زکوٰۃ کا حکم


سوال

زید تجارت کی نیت سے پلاٹوں کو خریدتا ہے اور چند ماہ بعد اس  کو فروخت کرتا ہے اب حل طلب امر یہ ہے کہ وہ تمام رقم پر زکوۃ ادا کرے گا جو کاروبار میں لگا رکھی ہے یا صرف اس کے منافع کی رقم پر سال گزرنے کے بعد زکوۃ ادا کرے گا اسی طرح زید کے پا س ایک عدد پلاٹ گھر والوں کے لیے مکان بنانے کی غرض سے بھی موجود ہے یہ پلاٹ کاروبار سے لیے ہوئے رقم کے علاوہ پر خریدا ہے تو آیا اس پر زکوۃ واجب ہے یا نہیں ؟

جواب

واضح رہے کہ جو پراپرٹی اس طرح تجارت کی نیت سے خریدی جائے کہ اس کو فروخت کرکے نفع کمایاجائے گا اور ا س کی مالیت نصاب تک پہنچتی ہو تو سال گزرنے کے بعد اس پراپرٹی کی موجودہ قیمت پر زکوۃ واجب ہوگی لیکن اگر کوئی پلاٹ یازمین تجارت کی نیت سے نہیں خریدی گئی بلکہ اس پر مکان بنانے کا ارادہ ہو تو اس صورت میں اس پلاٹ پر زکوۃ واجب  نہیں ہے ۔

صورت مسئولہ کے مطابق تجارت کی نیت سے خریدے گئے پلاٹوں کی کل مالیت پر زکوۃ واجب ہے صرف اس کے منافع پر نہیں چنانچہ سال گزرنے کے بعد اس شخص کی ملکیت میں جو تجارتی پلاٹ یا مالیت ہو تو اس پر زکوۃ واجب ہوگی اور جو پلاٹ گھر والوں کے لیے مکان بنانے کی غرض سے خریدا ہے اس پر زکوۃ واجب نہیں ۔

الزكاة واجبة في عروض التجارة كائنة ما كانت إذا بلغت قيمتها نصابا من الورق والذهب ۔۔۔وتشترط نية التجارة لأنه لما لم تكن للتجارة خلقة فلا يصير لها إلا بقصدها فيه۔(فتح  القدير ،كتاب الزكوة ،باب زكوة المال ج 2ص166)

وليس في دور السكنى ،وثياب البدن ،وأثاث المنزل ،ودواب الركوب ،وعبيد الخدمة وسلاح  الاستعمال زكوة لأنها مشغول بالحاجة الأصلية و ليست نامية ۔(الهداية ،كتاب الزكوة ج 1ص202)


فتویٰ نمبر : 8762/297/321

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں