بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 15/08/2026

دارالافتاء

 

دوران سال سونا زیادہ ہونے کی صورت میں زکوۃ کا حکم


سوال

ایک شخص کے پاس دس تولہ سونا ہے اور اس پر اب سال بھی گزراہے لیکن سال گزرنے سے چند ماہ  پہلےچھ تولہ سونا اور بھی ملکیت میں آگیا اب وہ شخص شرعی نقطہ نظر سے کس طرح زکوۃ ادا کرے گا چھ تولہ سونا پر علیحدہ سال گزرنا ضروری ہے یا دس  تولہ سونا کے ساتھ ملا کر زکوۃ ادا کرے گا ؟

جواب

فقہائے کرام کی تصریحات کے مطابق اگر کوئی شخص  صاحب نصاب ہو اور دوران سال اس کی ملکیت میں مزید مال آجائے تو دونوں کو ملا کر پورے مال پر زکوۃ کی ادائیگی ضروری ہے ۔

صورت مسئولہ کے مطابق اس شخص کے پاس جب دس تولہ سونا ہے تو یہ صاحب نصاب ہے اور سال گزرنے سے پہلے جب وہ مزید چھ تولہ سونا کا مالک بن گیا تو اس صورت میں نصاب پر سال مکمل ہونے کے بعد چھ تولہ سونا کو دس تولہ سونا سے ملا کرپورے سولہ تولے سونا کی زکوۃ دی جائے گی۔ چھ تولہ سونا پر علیحدہ سال گزرنا ضروری نہیں ۔

ومن كان له نصاب فاستفاد في أثناء الحول من جنسه ضمه إليه وزكاه به۔(الهداية كتاب الزكوة ج 1ص209)

ومن كان له نصاب فاستفاد في أثناء الحول مالا من جنسه ضمه إلى ماله وزكاه المستفاد من نمائه أوّلاٌ وبأي وجه استفاد ضمه سواء كان بميراث أو هبة أو غير ذلك۔(الفتاوى الهندية كتاب الزكوة ج1ص180)


فتویٰ نمبر : 8761/297/321

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں