بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم
| لاگ ان | 25/10/2026 |
دارالافتاء
بغیر اجازت بہو کےکمرہ میں داخل ہونا
سوال
(1)میراسسر میری اور میرے شوہر کی غیر موجودگی میں میرے ذاتی کمرہ میں بغیر اجازت داخل ہوکر وہاں پر موجود میری ذاتی چیزیں دیکھ لیتا ہے
(2)اور پھر اس کے بارے میں لوگوں سےگفتگو بھی کرتا ہے ،تو کیا میرے سسر کا یہ عمل جائزہے یا نہیں
(3)نیز رہائش کے سلسلے میں ایک عورت کے بنیادی حق میں کیا شامل ہے ،جہاں وہ اپنی مرضی سے سب کچھ کرسکے۔
جواب
واضح رہے کہ مسلمان کی عزت وآبرو کا تحفظ شرعاً وعرفاً ہر شخص پر لازم ہےاور کسی مسلمان کے لیے جائز نہیں کہ کسی دوسرے کے ذاتی معاملات یا خانگی زندگی میں بے جا مداخلت کرکے اس کی عزت وآبرو کو پامال کرے،چنانچہ اسی وجہ سے کسی کے گھر یا کمرہ میں داخل ہوتے وقت اجازت لینا ضروری قراردیا گیا ہے ، ارشاد باری تعالی ہے:﴿ يَاأَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لَا تَدْخُلُوا بُيُوتًا غَيْرَ بُيُوتِكُمْ حَتَّى تَسْتَأْنِسُوا﴾النور:72(اے ایمان والو !اپنے گھروں کے سوا دوسرے گھروں میں بغیر اجازت کے مت جاؤ،یہاں تک کہ اجازت حاصل کرلو)۔اور اس کی بنیادی وجہ یہی ہے کہ آدمی کبھی تنہائی میں بے تکلف حالت میں ہوتا ہے اور کبھی کسی ضرورت سے برہنہ بھی ہوجاتا ہے،پس اگر اچانک کوئی شخص اس کے کمرہ میں داخل ہوگا ،تو اس کے ستر پر نظر پڑے گی۔
لہذا صورت مسئولہ میں
1۔سسر کا بہو کے کمرہ میں بغیر اجازت داخل ہونا جائز نہیں۔
2۔اور ذاتی اشیاء سے مراد اگر وہ چیزیں ہوں جن پر کسی کا مطلع ہونا ناپسندیدہ اور معیوب شمار کیا جاتا ہواور ان کا لوگوں سے بیان کرنا باعث ِفتنہ ہو ،تو سسر کا اس کو دیکھنا اور لوگوں سے اس کے بارے میں گفتگو کرنا جائز نہیں اور اگر اس سے مراد گھریلو اشیا ء ہوں جیسے فرنیچر وغیرہ دیگر اشیا جن پر کسی کا مطلع ہونا نا پسندیدہ اور معیوب شمار نہیں کیا جاتااور اس کا لوگوں سے بیان باعث ِفتنہ نہ ہو،تو ایسے سامان کو دیکھنا اور لوگوں سے اس کے بارے میں گفتگو کرنے میں شرعاً کوئی مضائقہ نہیں ،البتہ یہ اقدام نا مناسب ضرور ہے ،اس لیے گھر کے ماحول کو پر امن اور سازگار رکھنے کے لیے سسر اور بہو میں سے ہر ایک کو اعتدال کے ساتھ اپنے حدود میں رہنا چاہیے۔
3۔جہاں تک رہائش کے سلسلے میں عورت کےحق کی بات ہے ، تو نان نفقہ کی طرح رہائش کی فراہمی بھی خاوند کی ذمہ داری ہے، اس میں یہ ضروری نہیں کہ کئی کمروں پر مشتمل مکان فراہم کرے، بلکہ یہ ضروری ہےکہ بیوی کو ایک مستقل کمرہ فراہم کرے،جس میں وہ بلا شرکت غیر تصرف کر سکتی ہو، اور اس میں اس کی ضروریات کی فراہمی یقینی ہو، ایسا کرنے سے خاوند کا ذمہ فارغ ہوگا، چنانچہ بڑے گھر میں ایک کمرہ دینے پر عورت کو اس سے مزید مطالبہ کا حق نہیں ، کہ اس کو مستقل گھر دیاجائے ، بلکہ ایک کمرہ دینے سے اس کا حق ادا ہوتا ہے ۔ ہاں اگر خاوند اتنا مالدار ہو کہ اس معیار کے لوگوں کی انفرادی رہائش ایک کمرہ میں مشکل ہو ، تو پھر خاوند کی حیثیت کو دیکھ کر بیوی کو اس کے معیار کے مطابق رہائش فراہم کرنا خاوند کا فریضہ ہے۔
إِنَّمَا شرع الاسْتِئْذَان فِي الدُّخُول لأجل أَن لَا يَقع الْبَصَر على عَورَة أهل الْبَيْت، وَلِئَلَّا يطلع على أَحْوَالهم---وَهَذَا مَخْصُوص بِمن تعمد النّظر، وَإِذا وَقع ذَلِك مِنْهُ من غير قصد فَلَا حرج عَلَيْهِ۔(عمدة القاري، باب الإستئذان من أجل البصر، ج:22 ص:239 دارالإحياء التراث العربي)
ان الاستئذان ليس للسكان أنفسهم خاصة بل لأنفسهم ولأموالهم لأن الإنسان كما يتخذ البيت سترا لنفسه يتخذه سترا لأمواله وكما يكره اطلاع الغير على نفسه يكره اطلاعه على أمواله۔(بدائع الصنائع، كتاب الإستحسان، ج:6 ص:500 دارلكتب العلمية)
(وكذا تجب لها السكنى في بيت خال عن أهله) لأنها تتضرر بمشاركة غيرها فيه؛ لأنها لا تأمن على متاعها ويمنعهاذلك من المباشرة مع زوجها۔(الدرالمختار مع ردالمحتار، كتاب الطلاق، باب النفقة، ج:5 ص:32 دارالكتب العلمية)
أما السكنى فحقها في البيت على حدة تأمن على متاعها۔(فتاوى قاضي خان، كتاب النكاح، ج:3 ص:213 دارالكتب العلمية )
تلاش
تلاش
- کتاب العقائد | فتاوئ : 329
-
کتاب الطّہارۃ | فتاوئ : 246
-
کتاب الصلوۃ | فتاوئ : 894
- نمازوں کے اوقات
- اذان واقامت کے احکام
- نمازکاطریقہ اورشرائط وارکان
- نمازکے واجبات
- نمازتوڑنے والے کام
- نمازکومکروہ بنانے والے کام
- سُترہ کے احکام
- امامت اورجماعت کے مسائل
- وترکے احکام
- سُنن اورنوافل
- تراویح
- سجدہ سہوکے احکام
- سجدہ تلاوت کے احکام
- نمازِجمعہ
- نمازِعیدین
- مسافرکی نماز
- مریض اورمعذورکی نماز
- فوت شدہ نمازوں کی قضا
- استسقاء اورکسوف وخسوف کی نماز
- احکامِ میت اورنمازِجنازہ
- باب زلۃ القاری
- ادعیہ
- کتاب الزکوٰۃ | فتاوئ : 455
- کتاب الصوم | فتاوئ : 91
- کتاب الحج | فتاوئ : 112
- کتاب النکاح | فتاوئ : 576
- کتاب الطلاق | فتاوئ : 494
- خلع | فتاوئ : 50
-
ظہار | فتاوئ : 6
-
ایلاء | فتاوئ : 4
-
ثبوتِ نسب | فتاوئ : 7
-
نفقات | فتاوئ : 33
-
حضانت(بچوں کی پرورش کاحق) | فتاوئ : 36
-
عدت کے احکام | فتاوئ : 60
-
کتاب الشرکۃ(شرکت کے احکام) | فتاوئ : 88
- کتاب البیوع(خریدوفروخت) | فتاوئ : 477
-
کتاب الربا(سودکے احکام) | فتاوئ : 102
-
کتاب الکفالۃ(ضمانت،گارنٹی کے احکام) | فتاوئ : 8
-
کتاب المضاربۃ(مضاربت کے احکام) | فتاوئ : 78
-
کتاب القرض والدین | فتاوئ : 82
-
کتاب الودیعۃ والامانۃ(امانت کے احکام) | فتاوئ : 22
-
کتاب الھبۃ(تحفہ کے احکام) | فتاوئ : 177
-
کتاب الاجارۃ(کرایہ داری اورملازمت کے احکام) | فتاوئ : 413
-
کتاب الشفعۃ | فتاوئ : 22
-
کتاب الرھن(گروی کے احکام) | فتاوئ : 8
-
کتاب المزارعۃوالمساقاۃ(مزارعت اورباغبانی کے احکام) | فتاوئ : 32
-
کتاب الصید(شکارکے احکام) | فتاوئ : 3
-
کتاب الذبائح(جانوروں کے ذبح کرنے کے احکام) | فتاوئ : 8
- کتاب الاضحیۃ والعقیقۃ(قربانی اورعقیقہ کے مسائل) | فتاوئ : 199
-
کتاب القسمۃ(تقسیم کے احکام) | فتاوئ : 5
-
کتاب اللقطۃ واللقيط(گری پڑی چیزيابچےکے متعلق احکام) | فتاوئ : 18
- کتاب الایمان والنذور(قسموں اورمنت کے احکام) | فتاوئ : 154
- کتاب القصاص والحدود والدیۃ | فتاوئ : 63
-
کتاب السیروالجہاد | فتاوئ : 2
- کتاب القضاء | فتاوئ : 19
-
کتاب الوکالۃ | فتاوئ : 43
-
کتاب الغصب | فتاوئ : 3
- کتاب الجنایات | فتاوئ : 34
- کتاب الوقف | فتاوئ : 324
-
کتاب الحظروالاباحۃ(حلال وحرام کے احکام) | فتاوئ : 1193
- کھانے پینے کے احکام
- لباس کے احکام
- حجاب کے احکام
- بالوں کے احکام
- زیب وزینت کے مسائل
- ولیمہ کے مسائل
- ناموں کابیان
- ختنہ کابیان
- حلال وحرام کمائی کے مسائل
- علاج معالجہ اوردواؤں کے احکام
- دم ،تعویذاورذکرواذکارکے مسائل
- سلام اورمصافحہ کے مسائل
- تصاویرکے مسائل
- لہولعب،کھیل کود اورمزاح کے مسائل
- شعروشاعری کے مسائل
- جانورپالنے کے احکام
- دیگرمتفرق مسائل
- صدقات نافلہ
-
کتاب الوصیۃ | فتاوئ : 34
- کتاب الفرائض(میراث کے مسائل) | فتاوئ : 388
-
کتاب الشہادۃ (گواہی کے احکام) | فتاوئ : 18
-
کتاب الماذون | فتاوئ : 1
سوال پوچھیں
اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے
سوال پوچھیں