بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 22/10/2026

دارالافتاء

 

ايك بيوه اور ایک چچازاد بھائی كے مابين تقسيم ميراث


سوال

ایک شخص غلام محمد ولد یار محمد وفات پا گیا ہے ، اس کے ورثاء میں ایک بیوہ (عشرت بی بی ) اور ایک چچا زاد بھائی (سید احمد ولد پیر محمد) حیات ہیں ۔ اب دریافت طلب امر یہ ہے کہ ان کے مابین میراث کس حساب سے تقسیم کی جائے گی؟

جواب

میـــــــــ(غلام محمد)(4)ـــــــــــــت

بیوہ(عشرت بی بی)    چچا زاد بھائی(سید احمد)

        1                         3

بشرط صدق و ثبوت اگر مرحوم کے مذ کورہ ورثاء کے علاوہ اور کوئی  وارث ذوی الفروض یا عصبات میں سے زندہ  موجود نہ ہو  تو بعد از ادائے حقوق متقدمہ علی الارث مرحوم کے مال و جائیداد کو چار حصوں میں تقسیم کر کے  بیوہ(عشرت بی بی) کو1/4 حصہ اور چچا زاد بھائی(سید احمد) کو3/4 حصہ دیا جائے گا۔

قال الله تعالى:وَلَهُنَّ الرُّبُعُ مِمَّا تَرَكْتُمْ إِنْ لَمْ يَكُنْ لَكُمْ ولد۔  (النساء:12)

وباقي العصبات ينفرد بالميراث ذكورهم دون أخواتهم وهم أربعة أيضا العم وابن العم وابن الأخ وابن المعتق۔ (الفتاوى الهندية،الباب الثالث فى العصبات،ج6،ص451)


فتویٰ نمبر : 4095/297/323

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں