بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 15/08/2026

دارالافتاء

 

بینک چیک کے ذریعے زکوۃ ادا کرنا


سوال

کوئی شخص اگر کسی فقیر کو زکوۃ کی رقم کی بجائے بینک کا چیک دے دے تو کیا اس سے زکوۃ فوراً ادا ہو جائے گی یا رقم ہاتھ میں آنے کے بعد ادا ہو گی؟

جواب

شرعی نقطہ نظر سے زکوۃ کی ادائیگی میں تملیک شرط ہے یعنی وہ مال زکوۃ فقیر کی ملکیت میں اس طور پر آجائے کہ مالک کا اس سے ہر قسم کے تصرف کا حق  ختم ہو جائےاور فقیر کی ملکیت ثابت ہو جائے ، چونکہ بینک چیک  بذات خود کوئی مال نہیں بلکہ اس مال کی  رسید ہے جو چیک دینے والے  کے بینک  اکاؤنٹ میں پڑا ہوا ہے اور محض چیک دینے سے یہ مال اکاؤنٹ ہولڈر کی ملکیت و قبضہ سے  نہیں نکلتا ہے یہی وجہ ہے کہ  اکاؤنٹ ہولڈر چیک کیش ہونے سے قبل تک اس رقم کو اپنے اکاؤنٹ سے نکال سکتا ہے ، اسی وجہ سے محض چیک پر قبضہ کرلینے سے اس مال پر قبضہ متحقق  نہیں ہوتا لہذا  بینک چیک  کے ذریعے زکوۃ کی ادائیگی تب متحقق  ہوگی جب چیک کیش کر کے یا چیک اپنے اکاؤنٹ میں ٹرانسفر کر کےوہ رقم فقیر اپنی ملکیت و  قبضہ میں لے لے۔

أما تفسيرها فهي تمليك المال من فقير مسلم غير هاشمي ولا مولاه بشرط قطع المنفعة عن المملك من كل وجه لله تعالى۔ (الفتاوى الهندية،كتاب الزكوة،الباب الأول،ج1،ص170)

إذا دفع الزكاة إلى الفقير لا يتم الدفع ما لم يقبضها۔(الفتاوى الهندية،فصل مايوضع فى بيت المال اربعة انواع،ج1،ص190)


فتویٰ نمبر : 8760/297/321

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں