بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 15/08/2026

دارالافتاء

 

مسجد کے لیے موقوفہ زمین کو بیچنے کا حکم


سوال

ایک شخص نے مسجد کے ساتھ والی زمین مسجد کے لیے وقف کردی اب لوگ اس زمین کو بیچ کر اس کی قیمت کو مسجد کی تعمیر میں لگانا چاہتے ہیں کیا شرعاً یہ زمین بیچ کر اس کی قیمت مسجد میں لگانا جائز ہے ؟ واضح رہے  کہ یہ زمین مسجد بننے کے بعد اس کے لیے وقف کردی گئی ہے جس پر ابھی تک نہ باجماعت نماز پڑھی گئی ہے اور نہ ہی اس پرکوئی تعمیر ہوئی ہے۔

جواب

مسجد شرعی بننے کے لیے ضروری ہے کہ موقوفہ زمین کو واقف نے اپنی ملک سے اس طرح علیحدہ کر دیا ہو کہ اس کا یا کسی اور کا حق اس کے ساتھ متعلق نہ ہو ،اور مالک کی اجازت سے اس میں کم از کم ایک مرتبہ  نماز باجماعت ادا ہوچکی ہو ،چنانچہ اگر کوئی زمین مسجد کے لیے وقف کردی گئی ہولیکن ابھی تک اس میں نماز باجماعت نہ ہوچکی ہو تو وقف تام نہ ہونے کی وجہ سے وہ زمین مالک کی ملکیت سے نہیں نکلتی ،ایسی صورت میں مالک کے لیے اس زمین کو مسجد کےعلاوہ دوسرے مصارف میں استعمال کرنے کی گنجائش ہے۔

صورت مسؤلہ میں اگر واقعتاً مسجد کے لیے موقوفہ زمین میں ابھی تک نماز باجماعت ادا نہ ہوچکی ہو تو وقف کے تام نہ ہونے کی وجہ سے مالک کو اس میں تصرف کا حق حاصل ہے ،لہذا مذکورہ زمین کو بیچ کر اس کی رقم کو مسجد کی تعمیر میں خرچ کر سکتے ہیں ۔

من بَنَى مَسْجِدًا لم يَزُلْ مِلْكُهُ عنه حتى يُفْرِزَهُ عن مِلْكِهِ بِطَرِيقَةٍ وَيَأْذَنَ بِالصَّلَاةِ أَمَّا الْإِفْرَازُ فَلَا لِأَنَّهُ لَا يَخْلُصُ لِلَّهِ تَعَالَى إلَّا بِهِ كَذَا في الْهِدَايَةِ۔۔۔وَأَمَّا الصَّلَاةُ فَلِأَنَّهُ لَا بُدَّ من التَّسْلِيمِ عِنْدَ أبي حَنِيفَةَ وَمُحَمَّدٍ رَحِمَهُمَا اللَّهُ تَعَالَى هَكَذَا في الْبَحْرِ الرَّائِقِ التَّسْلِيمُ في الْمَسْجِدِ أَنْ تُصَلِّيَ فيه جَمَاعَةٌ بِإِذْنِهِ وَعَنْ أبي حَنِيفَةَ رَحِمَهُ اللَّهُ تَعَالَى فيه رِوَايَتَانِ في رِوَايَةِ الْحَسَنِ عنه يُشْتَرَطُ أَدَاءُ الصَّلَاةِ فيه بِالْجَمَاعَةِ بِإِذْنِهِ اثْنَانِ فَصَاعِدًا كما قال مُحَمَّدٌ رَحِمَهُ اللَّهُ تَعَالَى رِوَايَةُ الْحَسَنِ كَذَا في فَتَاوَى قَاضِي خَانْ وَيُشْتَرَطُ مع ذلك أَنْ تَكُونَ الصَّلَاةُ بِأَذَانٍ وَإِقَامَةٍ جَهْرًا لَا سِرًّا۔والمصلى ) بالفعل و ( بقوله جعلته مسجدا ) عند الثاني ( وشرط محمد ) والإمام ( الصلاة فيه ) بجماعة وقيل يكفي واحد وجعله في الخانية ظاهر الرواية۔(الدرالمختار ج:4،ص:357)


فتویٰ نمبر : 4597/297/328

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں