بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 22/09/2026

دارالافتاء

 

زمانہ قدیم کے بتوں کی خریدوفروخت


سوال

ایک شخص کو زمین کی کھدائ میں کئی بت ملے ہیں ، جو کہ وائٹ سٹون سلور سے بنے ہوئے ہیں، اور اس میں قیمتی جواہر بھی لگے ہوئے ہیں، لیبارٹری ٹیسٹ کرنے پر معلوم ہوا کہ چار ہزار سال پرانے ہیں ، کئی کمپنیوں سے رابطہ کیا گیا، وہ ایک کروڑ سے زائد قیمت دینے کے لیے تیار ہیں، لیکن سوال یہ ہے کہ کیا شرعی  اعتبار سے ایسے پرانے بت کو فروخت کرنا مسلمان کے لیے جائز ہے یا نہیں؟ نیز اگر یہ بت صرف عجائب گھر والے خریدیں تو کیا حکم ہے؟  اور اگر ہندو خریدیں تو کیا حکم ہے؟نیز  انڈیا بھیج کر فروخت کرنا جائز ہے یا نہیں؟ مفصل جواب دیں۔

جواب

واضح رہے کہ شریعت مطہرہ نے حرام اور معصیت والی  اشیاء  جیسے : شراب، خنزیر، اور بت وغیرہ کی خریدوفروخت سے منع فرمایا ہے،کیونکہ خریدو فروخت سے اشیاء کو  عزت و عظمت  ملتی ہے، اور یہ کسی صاحب ایمان کا شیوہ نہیں کہ وہ حرام اور معصیت والی اشیاء کی تعظیم و توقیر کا سبب بنے۔

صورت مسٔولہ کے مطابق اگر کسی مسلمان کے پاس بت ہوں، تو اس کے لیے ان بتوں کو فروخت کرنا  ازروۓ شریعت جائز نہیں چاہے وہ اسے عجائب گھر کو فروخت کرے، یا  دوسرے ممالک میں بھیج کر فروخت کرے، کیونکہ ہر وہ چیز جو دوسروں کی لیے شرک یا معصیت میں مبتلا ہونے کا  سبب بنتی ہو، تو اس کی  خریدو فروخت کو ممنوع قرار  دیا گیا ہے، تاہم اگر ان کی شکل وصورت   کو مسخ کر کے یا ان کو توڑ کر ان میں لگے قیمتی جواہر اور ہیروں کو بیچا جاۓ، تو  ان کا بیچنا جائز ہے۔

عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، أَنَّهُ: سَمِعَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ عَامَ الفَتْحِ وَهُوَ بِمَكَّةَ: إِنَّ اللَّهَ وَرَسُولَهُ حَرَّمَ بَيْعَ الخَمْرِ، وَالمَيْتَةِ وَالخِنْزِيرِ وَالأَصْنَامِ۔)صحیح البخاری، کتاب البیوع، باب بیع المیتۃ والاصنام،ج:2، ص:590، رقم:2236)

والإجماع قائم على أنه لا يجوز بيع الميتة والأصنام لأنه لا يحل الانتفاع بها ووضع الثمن فيها إضاعة مال وقد نهى الشارع عن إضاعته قلت على هذا التعليل إذا كسرت الأصنام وأمكن الانتفاع برضاضها جاز بيعها عند بعض الشافعية وبعض الحنفية۔(عمدۃالقاری شرح صحیح البخاری، کتاب البیوع، باب بیع المیتۃ والأصنام، ج:12، ص:55، دار إحیاء التراث العربی)

حرم بیع الخمر ۔۔۔ وکذا معنی قولہ:(والمیتۃ،والخنزیر،والأصنام)أی وإن کانت من ذھب أو فضۃ۔(مرقاۃالمفاتیح، کتاب البیوع، باب الکسب الطیب والحلال، ج:6، ص:18، المکتبۃ الحقانیہ)


فتویٰ نمبر : 2823/297/322

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں