بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 15/08/2026

دارالافتاء

 

موہوبہ زمین میں وراثت کا دعو ی کرنا


سوال

:ایک ہبہ شدہ زمین جس کے ہبہ کے کاغذات یعنی سٹامپ پیپراور گواہ بھی موجود ہوں نیز موہوب لہ کو قبضہ بھی دیا گیا ہو۔ایسی زمین میں واہب کے ورثا یا رشتہ داروں کا میراث کا دعوی کرنا شرعا ً کیسا ہے ؟

جواب

شریعت مطہرہ کی رو سے کسی چیز کے مالک بننے کے متعدد اسباب ہیں ،جن میں سے ایک سبب ہبہ بھی ہے کہ بلا عوض کوئی شخص کسی کو اپنی مملوکہ چیز یا جائیدادکا مالک بنادےاور موہوب لہ  اس موہوبہ چیز پر قبضہ بھی کرلے تو موہوب لہ اس چیز کا مالک بن جاتا ہے اور واہب کے فوت ہونے سے شرعاً وہ زمین اس کے ترکہ میں شمار نہ ہوگی۔

            صورت مسؤلہ میں اگر سائل کا بیان حقیقت پر مبنی ہو اور ہبہ کرنے والے شخص نے واقعی ببقائے ہوش و حواس صحت  کی حالت میں کوئی زمین موہوب لہ کو بطور ِہبہ دے کر قبضہ بھی دیا ہو تو شرعاً یہ زمین واہب کی ملکیت سے نکل کر موہوب لہ کی ملکیت شمار ہوگی،لہذا واہب کے ورثا یا دیگر رشتہ داروں کا اس میں وراثت کا دعوی کرنا درست نہیں ہوگا ۔

 تنعقد الہبۃ بالإيجاب والقبول ،وتتم بالقبض الكامل ،لأنهامن التبرعات والتبرع لا يتم إلا بالقبض ۔(شرح المجلةلسليم رستم باز المادة 837،ص462)

لووهب أحد جميع امواله في حال صحته لأحدِورثتِه وسلّمه إياها وتوفّى بعد ذالك فليس لسائر الورثة المداخلة في الهبة۔(درر الحكام شرح مجلة الاحكام ،المادة 879،ج2ص433)


فتویٰ نمبر : 4593/297/328

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں