بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 21/10/2026

دارالافتاء

 

یتیم بچوں کی پرورش کا حق


سوال

زید(مرحوم) کی بیوی وقت گزارنا نہیں چاہتی اور روزانہ گھر میں لڑائی جھگڑے ہوتے رہتے ہیں اس صورت میں زید کے وکیل نے تمام نقد وغیرہ تقسیم کرکے بچوں کا حصہ دادا کے حوالے کیا جوکہ زید کے بچوں کا ہر قسم کا دیکھ بال کرسکتا ہےتو اس صورت میں دادا زید کی بیوی کو آٹھواں حصہ دیکرمناسب جگہ بھیج کر زید کے بچوں کو اپنے پاس رکھ سکتا ہے؟جبکہ اس کا بات کا بھی خوف ہو کہ اگر زید کے بچوں کا حصہ ان کی والدہ کو دیا جائے تو وہ ضائع ہوگا اور بچے تعلیم سے محروم ہوں گے۔

جواب

شریعت نے پرورش کا حق ماںکو دیا ہے لیکن اگر ماں نہ ہو یا ماں ہو لیکن کسی عارض کی وجہ سے اولاد کی تربیت نہ کرسکے تو پھر ان بچوں کی پرورش کی حقدار نانی ہوگی اور اگر نانی نہ ہو تو بالترتیب دادی پھر حقیقی بہن پھر خالہ اور پھر پھوپھی بچوں کی تربیت کی زیادہ حقدار ہوگی۔

صورت مسئولہ میں بچوں کا حق حضانت اس کی ماں کو ہے۔تاہم اگر وہ دوسرا نکاح بچوں کے غیر ذی رحم کے ساتھ کرے یا کسی ناگفتہ بہ کردار میں مبتلا ہو تو پھر ان بچوں کی پرورش کی حقدار ان کی نانی ہوگی اور اگر نانی نہ ہو تو بالترتیب دادی پھر حقیقی بہن پھر خالہ اور پھر پھوپھی بچوں کی تربیت کی زیادہ حقدارہوگی۔تاہم نرینہ اولاد میں سن تمیز تقریبا سات سالوں کے بعد جبکہ بچیوں میں نو سال کے بعد پرورش کا حق دادا کو منتقل ہوگا جبکہ اس کی عدم موجودگی میں چچا کے پاس رہیں گے۔

( والحاضنة ) أما أو غيرها ( أحق به ) أي بالغلام حتى يستغني عن النساء وقدر بسبع وبه يفتى لأنه الغالب( والأم والجدة ) لأم أو لأب ( أحق بها ) بالصغيرة ( حتى تحيض ) أي تبلغ في ظاهر الرواية( وغيرهما أحق بها حتى تشتهي ) وقدر بتسع وبه يفتى۔(الدر المختار شرح تنوير الابصار،باب الحضانۃ ج5 ص267)

والآباء بهذا الترتيب ثم العصبات بترتيب الإرث فيقدم الأب ثم الجد ثم الأخ الشقيق ثم لأب ثم بنوه كذلك ثم العم ثم بنوه ،وإذا اجتمعوا فالأورع ثم الأسن۔(الدرالمختارج3ص563)


فتویٰ نمبر : 6217/297/324

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں