بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 25/10/2026

دارالافتاء

 

حکومت کی طرف سے ملنے والی پیکج پر خریدی گئی جائیداد کا حکم


سوال

زید کی زندگی میں زید کی کی کوئی جائیداد اور نقد موجود نہ تھا۔اس کے بعد زید کے وکیل نے گورنمنٹ سے کچھ پیسے وصول کیئے اور اس پر کچھ جائیداد خرید لیا اور کچھ نقد زید کے وکیل کےپاس موجود ہے ۔کیا بیوی زندگی میں اپنے حق کا مطالبہ کرسکتی ہے؟اورموجودہ 5 مرلے پلاٹ یا نقد میں بیوی کا کتنا حصہ بنے گا؟

جواب

شرعی نقطہ نظر سے میراث کے احکام ان اموال میں جاری ہوتے ہیں جو میت کی زندگی میں اس کی ملکیت میں ہوں۔لہذا اگر کوئی مال یا جائیداد بوقت وفات اس کی ملکیت میں نہ ہو بلکہ اس کی وفات کے بعد کسی پیکج وغیرہ کی صورت میں اس کے پسماندگان کو مل جائےتو وہ  ترکہ میں شمار نہ ہوگا۔

صورت مسئولہ میں(1)اگر مذکورہ وکیل نے گورنمنٹ سے زید ہی کے رقوم جیسے تنخواہ وغیرہ نکالے ہوں اور اس پر جائیداد خریدا ہو تو چونکہ یہ رقوم ورثا کی ملکیت تھی لہذا مذکورہ وکیل کا اس پر جائیداد خریدنا ورثا کی اجازت پر موقوف ہوگا۔اگر ورثا نے بیع کو جائز قرار دیا تو شرعا اس جائیداد میں سب ورثا اپنے اپنے حصے کے بقدر شریک ہوں گے۔(2)لیکن اگر گورنمنٹ نے اپنی طرف سے بطور تبرع زید کے پسماندگان  کو کچھ نقد رقم دی ہو تو اس کے حقدار وہی لوگ ہوں گے جو گورنمنٹ کی طرف سے اس کے حقدار ٹھہرتے ہوں۔اسی طرح اگر ان پیسوں سے جائیداد خریدی گئی  ہو تو اس جائیداد کا بھی وہی حکم ہوگا جو ان پیسوں کا ہے۔

العطایا لا یورث عنہ۔(شرح الاشباہ والنظائر،ج2ص495)

المراد من الترکۃ ما ترکہ المیت خالیا عن تعلق حق الغیر بعینہ۔(البحر الرائق،کتاب الفرائض،ج9ص365)

ومنہ موت الموکل،لأن التوكيل بأمر الموكل وقد بطلت اهلية الأمر بالموت،فتبطل الوكالة۔(الفتاوی الهندية،ج3ص541)


فتویٰ نمبر : 4592/297/328

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں