بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 25/10/2026

دارالافتاء

 

حکومت کی طرف سے ملنے والے وظیفہ اور پنشن میں وراثت کا حکم


سوال

زيد کا وکیل جو اس کا بهائی ہے حکومت کی طرف سے زید کے بچوں کے لیے وظیفہ اور بیوی کے لیےپنشن مقرر کیا تھا۔ اس سے قبل زید کے پاس کوئی جائیداد اور نقد موجود نہیں تھا۔کیا مرنے کے بعد جو مال وصول ہوجائے وہ زید کی وراثت میں آسکتا ہے؟

جواب

واضح رہے کہ میراث مملوکہ اموال میں جاری ہوتی ہے حکومت کی طرف سے وظیفہ اور پنشن محض تبرع اور احسان ہوتا ہے جو بعد از وفات کسی متوفی کے ورثا کو ادا کی جاتی ہے،چونکہ یہ وظیفہ یا پنشن حکومت کی طرف سے عطیہ ہوتا ہے اس لیے حکومت کے قانون کے مطابق جس کو بھی یہ ملے،وہ اسی کا ہوگا۔اس میں وراثت کے احکام جاری نہ ہوں گے۔

 العطاء لا یورث عنہ۔(الاشباہ والنظائرج2 ص495)

الترکۃ في الاصطلاح ما ترکہ المیت من الأموال صافیا عن تعلق الغیر بعین من الأموال۔(ردالمحتار علی الدر المختار،کتاب الفرائض ج10 ص493)


فتویٰ نمبر : 4591/297/328

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں