بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 26/10/2026

دارالافتاء

 

دادا کی زندگی میں اس کے مال وجائیداد میں پوتے کا حق طلب کرنا


سوال

زید کے والدین زندہ ہیں ۔کیا زید کی بیوہ اور بچوں کا دادا کے میراث میں حصہ بنتا ہے؟یا اس کے مرنے کے بعد بچے اپنے چچا سے میراث کا مطالبہ کرسکتے ہیں؟

جواب

واضح رہے کہ ہر شخص کو زندگی میں اپنے مال وجائیداد میں جائز تصرف کا حق حاصل ہے۔ چاہے تو اپنے مال  جائیدادکواپنے پاس رکھتے ہوئے استعمال کرےیا کسی کو بطور ہبہ دے  نیز باپ کی زندگی میں اولاد کو اس کے مال وجائیداد میں تصرف کا حق حاصل نہیں۔

  واضح رہے کہ ہر شخص کو زندگی میں اپنے مال وجائیداد میں جائز تصرف کا حق حاصل ہے۔ چاہے تو اپنے مال  جائیدادکواپنے پاس رکھتے ہوئے استعمال کرےیا کسی کو بطور ہبہ دے نیز باپ کی زندگی میں اولاد کو اس کے مال وجائیداد میں تصرف کا حق حاصل نہیں۔

صورت مسئولہ میں جب دادا زندہ ہےتو اس کے پوتوں کا دادا کے مال وجائیداد میں حصہ نہیں بنتااسی طرح اگر دادا فوت ہوجائےاور اس کی نرینہ اولاد ہو تو شرعا پوتے کو یہ حق حاصل نہیں کہ وہ چچا سے دادا کی جائیداد میں وراثت مانگے اس لیے کہ میت  کی نرینہ اولاد کی موجودگی میں پوتے وراثت سے محروم ہوتے ہیں البتہ اگر دادا اپنی زندگی میں اپنے مال وجائیداد میں سے کچھ پوتوں کو ہبہ کرنا چاہے تو شرعا اس کی اجازت ہے۔

 إِذَا تَرَكَ ابْنًا وَابْنَ ابْنٍ فَلَيْسَ لاِبْنِ الاِبْنِ شَىْءٌ۔(السنن الکبری للبیھقی ج9ص302)

کل یتصرف في ملکہ المستقل کیف ما شاء أي أنہ یتصرف کما یرید باختیارہ أي لا یجوز منعہ من التصرف۔(دررالحکام شرح مجلۃالأحكام، المادة1192،ج3،ص210)


فتویٰ نمبر : 4093/297/323

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں