بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 20/10/2026

دارالافتاء

 

یتیم بچے کے مال کی ولایت کا حکم


سوال

کیا زیدکی بیوی اپنے بچوں کو اس بات پر مجبور کرسکتی ہےکہ وہ زید کے باپ یعنی بچوں کے دادا سے اپنا حصہ لیکر والدہ کے حوالے کرے،جبکہ بچے بالغ نہیں ہیں؟

جواب

شرعا بالغ ہونے سے پہلے لڑکا،لڑکی کے مال وجائیداد پر ولایت کا حق ان کے اولیاء کو حاصل ہوتا ہے۔باپ ،دادایاسگے بھائی کی موجودگی میں بچے کی ماں کو اس کے مال وجائیداد پر ولایت کا حق حاصل نہیں۔

صورت مسئولہ میں جب زید فوت ہوا تو اس کا مال شرعی ورثا میں اپنے حصص کے بقدر تقسیم کیا جائے گا پھر جو ورثا (لڑکے،لڑکیاں)نابالغ ہوں ان کے حصص میراث پر ولایت کا حق دادا کو حاصل ہےایسی صورت میں زید کی بیوی یعنی بچوں کی ماں ان کے دادا سے یہ مطالبہ کا حق نہیں رکھتی کہ وہ نابالغ بچوں کا حصہ میراث اپنے قبضہ میں لے نہ ہی بچوں کو اس پر مجبور کرسکتی ہے کہ وہ دادا سے اپنا مال وصول کریں۔

( والولاية تنفيذ القول على الغير )وقال ابن عابدین :وأفاد أن المذكور في المتن غير خاص بهذا الباب ،بل منه ولاية الوصي وقيم الوقف وولاية وجوب صدقة الفطر بناء على أن المراد بتنفيذ القول ما يكون في النفس أو في المال أو فيهما معا۔(ردالمحتار علی الدرالمختار،ج4ص154)

الْأَسْبَابُ الْمُوجِبَةُ لِلْحَجْرِ الصِّغَرُ وَالْجُنُونُ وَالرِّقُّ وَهَذَا بِالْإِجْمَاعِ۔(الفتاوی الھندیۃ،کتاب الحجر ج5ص65)


فتویٰ نمبر : 6218/297/324

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں