بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 21/10/2026

دارالافتاء

 

کبوتر بازی کا حکم


سوال

 کیا فرماتےہیں علماءکرام کہ ایک  مخصوص قسم کے کبوتر ہیں  جو اس بات میں مشہور ہیں کہ کسی دور مقام سے بھی چھوڑ دو تو گھر پہنچ جاتے ہیں، اب پوچھنا یہ ہے کہ اس طرح کرنا جائز ہے یا نہیں؟ کیوں کہ اس مقابلے میں بہت سارے کبوتر راستے میں شکاریوں اور شکاری پرندوں کے ہاتھ بھی چڑھ جاتے ہیں  اور  ظاہر بات ہےکہ کبوتروں کو تکلیف بھی ہوگی کیوں کہ  پانچ سو، چھ سو کلومیٹر یا بعض دفعہ اس سے زیادہ  مسافت بھی مقرر کی جاتی ہے۔

جواب

          شرعی نقطہ نظر سے افزائش نسل کےلیےیاشکارکےلیے، پرندوں کے مانوس ہونے ، اور بچوں کو مانوس رکھنے  کے کےلیےپرندوں کے رکھنے کی شرعا گنجائش ہے بشرطیکہ اس میں نہ تو پرندوں کو ایذا رسانی ہو اور نہ ہی قمار (جوا) کا ذریعہ ہو۔ لیکن جہاں پر مذکورہ مقاصد نہ ہوں، بلکہ صرف لہو و لعب کے طور پر پرندوں کو رکھا جاتا ہوتو شرعا اس کی گنجائش نہیں۔

          صورت مسئولہ میں حسب بیان تمہیدمیں مذکورمقاصد پیش نظر نہیں ، اور نہ ہی پرندوں کے منزل مقصود تک پہنچنے کا مشغلہ  کوئی ایسا فعل ہے جس کے کوئی مفید  نتائج حاصل ہوں ، بلکہ یہ ایک لہو اور بیہودہ فعل ہے، جس میں حیوان کی بلا وجہ تعذیب ہےاس لیے ایسے فعل  کی حوصلہ افزائی نہیں کی جاسکتی.

عَنْ أَنَسٍ، قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَأْتِي أَبَا طَلْحَةَ كَثِيرًا، قَالَ: فَجَاءَ يَوْمًا، وَقَدْ مَاتَ نُغَيْرٌ لابْنِهِ، فَوَجَدَهُ حَزِينًا، فَسَأَلَهُمْ عَنْهُ، فَأَخْبَرَهُ، فَقَالَ لَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «يَا أَبَا عُمَيْرٍ مَا فَعَلَ النُّغَيْرُ؟» وَفِي هَذَا الحَدِيث فَوَائِد وأنواع مِن الْفِقْه، مِنْهَا أَن صيد الْمَدِينَة مُبَاح بِخِلَاف صيد مكَّة، وَأَنه لَا بَأْس أَن يعْطى الصَّبِي الطير ليلعب بِهِ مِن غير أَن يعذبه.(شرح السنة ،للامام البغوي، ج: 12، ص: 347)

عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: رَأَى رَجُلًا يَتْبَعُ حَمَامَةً فَقَالَ: «شَيْطَانٌ يَتْبَعُ شَيْطَانَةً» أي هو شَيْطَانٌ لاشْتِغَالِهِ بِمَا لَا يَعْنِيهِ يقفواأثرشَيْطَانَةِِ أَوْرَثَتْهُ الْغَفْلَةَ عَنْ ذِكْرِ اللَّهِ۔(بذل المجهودفي حل أبي داؤد، كتاب الأدب، باب في اللعب بالحمام، ج:19، ص:188، داراللواء)   


فتویٰ نمبر : 4612/297/328

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں