بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 08/09/2026

دارالافتاء

 

"اھدنا"کو"احدنا"پڑھنےکی صورت میں نمازکاحکم


سوال

اگرکوئی شخص نمازمیں "اھدنا "کی جگہ"احدنا"پڑھ لے،تواس کی نمازہوگئی ہےیادوبارہ لوٹائےگا؟

جواب

واضح رہے کہ اگرکوئی شخص نمازمیں قرات کرتےوقت اصل حروف کےتلفظ کی نیت وارادہ کر کےاصل حرف ادا کرنےکی کوشش کرے،لیکن اس کی غفلت یاکم علمی کی وجہ سےقریب المخرج حرف سناجائے،توایسی صورت میں نماز اداہوجاتی ہے،فاسدنہیں ہوتی۔

لہٰذاصورت مسئولہ کےمطابق اگرکوئی شخص نمازمیں"اھدنا"کی جگہ"احدنا"پڑھ لے،توچونکہ"ھاء"اور"حاء"دونوں حروف حلقی ہونے کی وجہ سےقریب المخرج ہیں،جن کےدرمیان فرق کرنا ایک عام آدمی کےلیےمشکل ہوتاہے،اس لیےاس شخص کی نمازفاسدنہ ہوگی،تاہم حروف کواپنی مخارج سےاداکرنےکی کوشش کرنی چاہیے؛ تاکہ آئندہ ان جیسی غلطیوں کااعادہ نہ ہو۔

(ومنها) ذكر حرف مكان حرف إن ذكر حرفا مكان حرف ولم يغير المعنى بأن قرأ إن المسلمون إن الظالمون وما أشبه ذلك لم تفسد صلاته وإن غير المعنى فإن أمكن الفصل بين الحرفين من غير مشقة كالطاء مع الصاد فقرأ الطالحات مكان الصالحات تفسد صلاته عند الكل وإن كان لا يمكن الفصل بين الحرفين إلا بمشقة كالظاء مع الضاد والصاد مع السين والطاء مع التاء اختلف المشايخ قال أكثرهم لا تفسد صلاته. هكذا في فتاوى قاضي خان.وكثير من المشايخ أفتوا به قال القاضي الإمام أبو الحسن والقاضي الإمام أبو عاصم: إن تعمد فسدت وإن جرى على لسانه أو كان لا يعرف التميز لا تفسد وهو أعدل الأقاويل.     (الفتاوى الهندية، كتاب الصلاة، الفصل الخامس: في زلة القاري، ج:1، ص:136-137، دارالفكر)


فتویٰ نمبر : 8770/297/321

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں