بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 26/10/2026

دارالافتاء

 

کسی وارث کو محروم کرنے کی صورت میں تقسیم کا حکم


سوال

 اگر ایک وارث کا حصہ باقی ورثا میں تقسیم کیا گیا ہو،تو یہ وارث بعد میں اپنے حق کا مطالبہ صرف ایک وارث سے کرے گا یا تمام ورثا سے کرے گا تاکہ ان کو اپنا حصہ مل جائے؟ شرعی نقطہ نظر واضح کریں۔

جواب

واضح رہے کہ ارث ایک اضطراری حق ہے ۔کسی  شخص کے مرنے پر اس کے متروکہ مال و جائیداد میں شرعی ورثا کا حق خودبخود ثابت ہوجاتا ہے،اور مرورزمانہ یا کسی کے اختیار سے کوئی وارث استحقاق میراث سے محروم نہیں ہو سکتا۔لہذا اگر کسی  وارث  کو ترکہ کی تقسیم  میں اس کے حصے سےمحروم  رکھا جائے،تو  متروکہ  مال و جائیداد میں اس کا حق  پھر   بھی  باقی   رہے گا۔ناحق تقسیم ہونے یا مرور   زمانہ سے اس کا حق ختم نہ ہوگا ،لہذا وہ اپنے مطالبہ کا حق رکھتا ہے۔

صورت مسئولہ کے مطابق اگر کسی وارث کو میراث سے محروم کرکے اس کا حصہ باقی ورثا آپس میں تقسیم کرلیں،تو یہ وارث اپنے حق کا مطالبہ کسی ایک وارث کے بجائے سب ورثا سے کرے گا، اور ترکہ بقدر شرعی حصص تمام ورثا میں دوبارہ تقسیم کیا جائے گا،پھر  اگر قابض ورثا برضاورغبت یہ فریضہ سر انجام دیں ،تو فبھا و نعمت ورنہ پھر محروم وارث حکومت کے ذریعہ اپنا حق مانگ سکتا ہے ،جس کے لیے اسےعدالت جانا ہوگا۔

 "عن ابن عباس، قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: ألحقوا الفرائض بأهلها، فما بقي فهو لأولى رجل ذكر"(الصحیح لمسلم،کتاب الفرائض،باب ألحقواالفرائض بأھلھا، ج:5، ص:155، مكتبة البشری)

عن أنس بن مالك قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: «من فرض من ميراث وارثه، قطع الله ميراثه من الجنة يوم القيامة(سنن ابن ماجۃ، أبواب الوصایا، باب الحيف في الوصية ، ج:2، ص:318، رحمانية)

وأما صفات القسمة فأنواع: منها أن تكون عادلة غير جائرة وهي أن تقع تعديلا للأنصباء من غير زيادة على القدر المستحق من النصيب ولا نقصان عنه؛ لأن القسمة إفراز بعض الأنصباء، ومبادلة البعض، ومبنى المبادلات على المراضاة، فإذا وقعت جائرة؛ لم يوجد التراضي، ولا إفراز نصيبه بكماله؛ لبقاء الشركة في البعض فلم تجز وتعاد(بدائع الصنائع، کتاب القسمة، فصل في صفات القسمة، ج:9، ص:161، دارالكتب العلمية)

لَا يَجُوزُ لِأَحَدٍ أَنْ يَأْخُذَ مَالَ أَحَدٍ بِلَا سَبَبٍ شَرْعِيٍّ وإن أخذہ ولو علی ظن انہ ملکہ وجب عليه ردہ عینا إن کان قائما وإلا فیضمن قيمته إن کان قیمیا و مثله إن کان مثلیا.        (شرح المجلة، المادة:97، ص:62، المكتبة الحبيبية) 


فتویٰ نمبر : 4098/297/323

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں