بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم
| لاگ ان | 24/10/2026 |
دارالافتاء
قرض حسنہ دینے کی بجائے گاڑی زیادہ قیمت پر ادھار فروخت کرنا
سوال
ایک شخص(زید) کو دس لاکھ(1000000) روپے کی ضرورت ہے،عمرو اس کو دس لاکھ (1000000)قرض دینے کی بجائے دس لاکھ کی گاڑی تیرہ لاکھ(1300000)پر فروخت کرتا ہےاور یہ شرط لگاتا ہے کہ یہ تیرہ لاکھ روپے دو ما ہ کے اندر ادا کرو گے ،اس طرح کے معاملہ کو عرف میں "نیٹہ"کہتے ہیں،تو کیا اس طرح کے معاملات میں سود ہوتا ہے یا نہیں؟
جواب
شرعی نقطہ نظر سے کسی کو جائز ضرورت پوری کرنے کے واسطے قرض دینا مستحب ہے،اس لیے کہ یہ نیکی اور معروف میں تعاون ہے،لہذا جب کسی سے قرض مانگا جائے اور اس(قرض دہندہ)کو غالب گمان ہو کہ یہ قرض جائز ضرورت کے لیے مانگ رہا ہے تو بہتر یہ ہے کہ اس کو قرض دے کر اس کی ضرورت پوری کردی جائے ،لیکن اگر کوئی شخص قرض دینے کے لیے تیار نہ ہو بلکہ وہ اپنی کوئی چیز مثلاً گاڑی وغیرہ قرض کے مطالبہ کرنے والے کو اصل قیمت پر یا اصل قیمت سے زیادہ پر ادھار فروخت کرنا چاہتا ہو تو اس کے جائز اور نا جائز ہونے کے اعتبار سے چند صورتیں بنتی ہیں، جو درجہ ذیل ہیں:
1ـ جس سے قرض کا مطالبہ کیا گیا ہےوہ اپنی کوئی چیز مثلاً گاڑی قرض مانگنے والے کو اس شرط پر ادھار فروخت کردے کہ مشتری واپس یہ گاڑی اسی فروخت کنندہ کو کم قیمت پرنقد فروخت کردے گا۔
2ـ عقد کے وقت واپس کم قیمت پر فروخت کرنے کی شرط تو نہ لگائے،لیکن عقد کے بعد ثمن کی ادائیگی سے پہلے کم قیمت پرگاڑی اس سے نقد خرید لے۔
3ـ فروخت کرنے والا نہ تو واپس کم قیمت پرنقد فروخت کرنے کی شرط لگادےاور نہ ہی ثمن کی ادائیگی سے پہلے کم قیمت پرنقد اس سے خرید لے ،بلکہ قرض مانگنے والا گاڑی ادھار زیادہ قیمت پر خریدکر کسی اور شخص کو نقد کم قیمت میں فروخت کر کے اپنی ضرورت پوری کرے۔
ان میں سے پہلی اور دوسری صورت شرعاً جائز نہیں کیونکہ یہ "بیع عینہ" ہے جو کہ در حقیقت پیسوں کا پیسوں سے کمی زیادتی کے ساتھ تبادلہ ہے یہ بیع سود کے لیے ناجائز حیلہ کے طور پراختیارکی جاتی ہے، ان صورتوں میں گاڑی اصل مالک کے پاس لوٹ کر بدستور اسی کی ملکیت میں رہتی ہےاور اضافی کچھ پیسے بائع کے مشتری کے ذمہ قرض بن جاتے ہیں ۔
تیسری صورت چونکہ "بیع عینہ" نہیں بنتی کہ گاڑی اصل مالک ہی کی ملکیت میں رہے اور مشتری کے ذمہ اس کے کچھ پیسے قرض بن جائے اس لیے یہ صورت شرعاً جائز ہے۔
صورت مسئولہ میں جب زید کودس لاکھ (1000000)روپے قرض کی ضرورت ہے اور عمر ونے قرض دینے کی بجائے دس لاکھ کی گاڑی تیرہ لاکھ (1300000) پر اس کو ادھار فروخت کر دی کہ زید یہ تیرہ لاکھ (1300000) روپے دو ماہ کےاندر ادا کرے گا ،تو اس صورت میں چونکہ واپس کم قیمت پر فروخت کرنے کی شرط نہیں لہذا اگر زید یہ گاڑی واپس عمر و کوکم قیمت پر فروخت نہیں کر تا تو پھر یہ سود نہیں،ادھار زیادہ قیمت پر فروخت کرنے کی صورت ہے جو کہ شرعاً جائز ہے۔
ثم قال في الفتح ما حاصله: إن الذي يقع في قلبي أنه إن فعلت صورة يعود فيها إلى البائع جميع ما أخرجه أو بعضه كعود الثوب إليه في الصورة المارة وكعود الخمسة في صورة إقراض الخمسة عشر فيكره يعني تحريما، فإن لم يعد كما إذا باعه المديون في السوق فلا كراهة فيه بل خلاف الأولى، فإن الأجل قابله قسط من الثمن، والقرض غير واجب عليه دائما بل هو مندوب وما لم ترجع إليه العين التي خرجت منه لا يسمى بيع العينة۔(رد المحتار على الدرالمختار،كتاب الكفالة،مطلب في بيع العينة،ج:7،ص:613)
(قوله وفسد شراء ما باع إلخ) أي لو باع شيئا وقبضه المشتري ولم يقبض البائع الثمن فاشتراه بأقل من الثمن الأول لا يجوز زيلعي: أي سواء كان الثمن الأول حالا أو مؤجلا هداية(رد المحتار على صدر المختار،كتاب البيوع،باب البيع الفاسد،ج:7،ص:267)
وَإِلَّا فَلَا كَرَاهَةَ إلَّا خِلَافُ الْأُولَى عَلَى بَعْضِ الِاحْتِمَالَاتِ كَأَنْ يَحْتَاجَ الْمَدْيُونُ فَيَأْبَى الْمَسْئُولُ أَنْ يُقْرِضَ بَلْ أَنْ يَبِيعَ مَا يُسَاوِي عَشَرَةً بِخَمْسَةَ عَشَرَ إلَى أَجَلٍ فَيَشْتَرِيَهُ الْمَدْيُونُ وَيَبِيعَهُ فِي السُّوقِ بِعَشَرَةٍ حَالَّةٍ ۔ ۔ ۔ ۔۔وَمَا لَمْ تَرْجِعْ إلَيْهِ الْعَيْنُ الَّتِي خَرَجَتْ مِنْهُ لَا يُسَمَّى بَيْعَ الْعِينَةِ۔(شرح فتح القدير،كتاب الكفالة،ج:6،ص:324)
تلاش
تلاش
- کتاب العقائد | فتاوئ : 329
-
کتاب الطّہارۃ | فتاوئ : 246
-
کتاب الصلوۃ | فتاوئ : 894
- نمازوں کے اوقات
- اذان واقامت کے احکام
- نمازکاطریقہ اورشرائط وارکان
- نمازکے واجبات
- نمازتوڑنے والے کام
- نمازکومکروہ بنانے والے کام
- سُترہ کے احکام
- امامت اورجماعت کے مسائل
- وترکے احکام
- سُنن اورنوافل
- تراویح
- سجدہ سہوکے احکام
- سجدہ تلاوت کے احکام
- نمازِجمعہ
- نمازِعیدین
- مسافرکی نماز
- مریض اورمعذورکی نماز
- فوت شدہ نمازوں کی قضا
- استسقاء اورکسوف وخسوف کی نماز
- احکامِ میت اورنمازِجنازہ
- باب زلۃ القاری
- ادعیہ
- کتاب الزکوٰۃ | فتاوئ : 455
- کتاب الصوم | فتاوئ : 91
- کتاب الحج | فتاوئ : 112
- کتاب النکاح | فتاوئ : 576
- کتاب الطلاق | فتاوئ : 494
- خلع | فتاوئ : 50
-
ظہار | فتاوئ : 6
-
ایلاء | فتاوئ : 4
-
ثبوتِ نسب | فتاوئ : 7
-
نفقات | فتاوئ : 33
-
حضانت(بچوں کی پرورش کاحق) | فتاوئ : 36
-
عدت کے احکام | فتاوئ : 60
-
کتاب الشرکۃ(شرکت کے احکام) | فتاوئ : 88
- کتاب البیوع(خریدوفروخت) | فتاوئ : 477
-
کتاب الربا(سودکے احکام) | فتاوئ : 102
-
کتاب الکفالۃ(ضمانت،گارنٹی کے احکام) | فتاوئ : 8
-
کتاب المضاربۃ(مضاربت کے احکام) | فتاوئ : 78
-
کتاب القرض والدین | فتاوئ : 82
-
کتاب الودیعۃ والامانۃ(امانت کے احکام) | فتاوئ : 22
-
کتاب الھبۃ(تحفہ کے احکام) | فتاوئ : 177
-
کتاب الاجارۃ(کرایہ داری اورملازمت کے احکام) | فتاوئ : 413
-
کتاب الشفعۃ | فتاوئ : 22
-
کتاب الرھن(گروی کے احکام) | فتاوئ : 8
-
کتاب المزارعۃوالمساقاۃ(مزارعت اورباغبانی کے احکام) | فتاوئ : 32
-
کتاب الصید(شکارکے احکام) | فتاوئ : 3
-
کتاب الذبائح(جانوروں کے ذبح کرنے کے احکام) | فتاوئ : 8
- کتاب الاضحیۃ والعقیقۃ(قربانی اورعقیقہ کے مسائل) | فتاوئ : 199
-
کتاب القسمۃ(تقسیم کے احکام) | فتاوئ : 5
-
کتاب اللقطۃ واللقيط(گری پڑی چیزيابچےکے متعلق احکام) | فتاوئ : 18
- کتاب الایمان والنذور(قسموں اورمنت کے احکام) | فتاوئ : 154
- کتاب القصاص والحدود والدیۃ | فتاوئ : 63
-
کتاب السیروالجہاد | فتاوئ : 2
- کتاب القضاء | فتاوئ : 19
-
کتاب الوکالۃ | فتاوئ : 43
-
کتاب الغصب | فتاوئ : 3
- کتاب الجنایات | فتاوئ : 34
- کتاب الوقف | فتاوئ : 324
-
کتاب الحظروالاباحۃ(حلال وحرام کے احکام) | فتاوئ : 1193
- کھانے پینے کے احکام
- لباس کے احکام
- حجاب کے احکام
- بالوں کے احکام
- زیب وزینت کے مسائل
- ولیمہ کے مسائل
- ناموں کابیان
- ختنہ کابیان
- حلال وحرام کمائی کے مسائل
- علاج معالجہ اوردواؤں کے احکام
- دم ،تعویذاورذکرواذکارکے مسائل
- سلام اورمصافحہ کے مسائل
- تصاویرکے مسائل
- لہولعب،کھیل کود اورمزاح کے مسائل
- شعروشاعری کے مسائل
- جانورپالنے کے احکام
- دیگرمتفرق مسائل
- صدقات نافلہ
-
کتاب الوصیۃ | فتاوئ : 34
- کتاب الفرائض(میراث کے مسائل) | فتاوئ : 388
-
کتاب الشہادۃ (گواہی کے احکام) | فتاوئ : 18
-
کتاب الماذون | فتاوئ : 1
سوال پوچھیں
اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے
سوال پوچھیں