بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 08/09/2026

دارالافتاء

 

طلاق کو کسی شرط کے عدم کے ساتھ معلق کرنا


سوال

فاطمہ جو کہ زید کی بیوی ہے اس نے زید کو کہا  کہ میں ماں کے گھر جاتی ہوں ۔ زید نے پشتو میں کہا "آوآو لاڑہ شہ،کہ لا نہ ڑے نو پہ ما باندے بہ طلاقہ یی"(کہ ہاں ہاں جاؤ اگر آپ نہیں گئی  تو مجھ پر طلاق ہے )۔پھر کچھ دیر بعد گھر آیا تو بیوی جانے کی تیاری میں مصروف تھی، زید نے کہا کہ آپ نہیں جاؤگی ۔بیوی نے کہا :اور آپ نے جو اس طرح  كی بات کی ہے اس کا کیا بنے گا ؟ زید نے جوابا کہا کہ وہ بھی میں نے کہا تھا اور اب یہ بھی میں کہتا ہوں کہ مت جاؤ اس میں کچھ تو نہیں ہے ۔اب مطلوب یہ ہے کہ:

1ـ کیا زید کی یہ بات درست ہے اور کیا وہ رجوع کر سکتا ہے ؟

2ـ اگر مذکورہ شرط (ماں کے گھر نا جانا) پائی گئی تو کیا طلاق واقع ہو جائے گی ؟اگر واقع ہے تو کونسی طلاق ،اور کتنے واقع ہونگے؟

جواب

 واضح رہے کہ جس طرح بیوی کو بغیر شرط کے طلاق کے الفاظ کہنے سے فوری طلاق واقع ہوتی ہے اسی طرح اگر طلاق کو کسی کام کے وجود یا عدم کے ساتھ معلق کیا جائے تو متعلقہ شرط کے وجود کی صورت میں اگر بیوی کا نکاح برقرار ہو تو شرعا مشروط طلاق واقع ہو جائے گی ،اور شوہر کا طلاق معلق کرنے کے بعد پھر اس تعلیق طلاق کو ختم کرنا معتبر نہیں۔نیز  ایک  یا دو مرتبہ طلاق رجعی واقع ہونے  سے چونکہ نکاح بالکلیہ ختم نہیں ہوتا اس لیے عدت میں رجوع کرنے کی شریعت نے اجازت دی ہے ،لیکن اگر شوہر نے طلاق رجعی دی اور بغیر رجوع کے عدت گزر گئی تو ایسی صورت میں مرد کے لیے تجدید نکاح کے بغیر رجوع کا استحقاق نہیں رہتا ۔

  صورت مسئولہ میں اگر مذکورہ شخص نے واقعی اپنی بیوی کو یہ الفاظ کہے ہوں "آوآو لاڑہ شہ کہ لا نہ ڑے نو پہ ما باندے بہ طلاقہ یی"(اگر تو ماں کے گھر نہ چلی گئی تو تم مجھ پر طلاق ہو )،اس کے بعد اگر عورت اپنی ماں کے گھر چلی گئی ہو تو طلاق واقع نہیں ہوئی ہے اس لئے کہ طلاق کو جس شرط کے ساتھ معلق کیا تھا وہ نہیں پائی گئی ،لیکن اگر بیوی شوہر کے کہنے کے بعد ماں کے گھر نہ چلی گئی ہو اور عورت مدخول بہا ہو یا اس کے ساتھ خلوت صحیحہ ہوئی ہو تو شرعا ایک طلاق رجعی واقع ہوچکی ہے، لہذا اگر عدت نہ گزری ہو تو رجوع کرنے کا حق شوہر کے پاس ہے ،تاہم اگر شوہر نے عدت کے دوران رجوع نہ کیا  ہو تو عدت گزرنےپر تجدید نکاح کے بغیر یہ عورت شوہر کے لیے حلال نہیں ہوسکتی۔

وإذا أضافه إلى الشرط وقع عقيب الشرط اتفاقا مثل أن يقول لامرأته إن دخلت الدار فأنت طالق۔(الفتاوى الهندية،كتاب الطلاق،الباب الرابع في الطلاق بالشرط،ج:1،ص:488)

فالصريح قوله أنت طالق ومطلقة وطلقتك فهذا يقع به الطلاق الرجعي لأن هذه الألفاظ تستعمل في الطلاق ولا تستعمل في غيره فكان صريحا وأنه يعقب الرجعة بالنص ولا يفتقر إلى النية لأنه صريح فيه لغلبة الاستعمال۔(الهداية،كتاب الطلاق،باب إيقاع الطلاق،ج:3،ص:143)

رجل قال لامرأته اكرامشب نزديك من نيائي(إن لم تجيئي عندي الليلة) فأنت طالق فجاءت إلى الباب ولم تدخل تطلق۔(الفتاوى الهندية، كتاب الطلاق،الباب الرابع في الطلاق بالشرط ونحوه،ج:1،ص:498)

وإذا طلق الرجل امرأته تطليقة رجعية أو تطليقتين فله أن يراجعها في عدتها رضيت بذلك أو لم ترض كذا في الهداية۔(أيضاً،الباب السادس في الرجعة،ج:1،ص:533)


فتویٰ نمبر : 6220/297/324

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں