بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 22/10/2026

دارالافتاء

 

کمپنی سے ملنے والی امدادی رقم کا حکم


سوال

میرے شوہر کے وفات کے بعد اس کی کمپنی چونکہ جدہ (سعودیہ عرب میں ہیں )کی طرف سے جو حقوق ملیں گے جن کیلئے میرے شوہر نے کمپنی میں میرا ،میری تین بچیوں کا اور اپنے والد محترم کا نام اندراج کیا ہے جبکہ دوسری بیوی کا نام درج نہیں کیا اور نہ ہی دوسری بیوی کیلئے کچھ تحریر چھوڑا ہے جبکہ فوت ہونے کے مہینے میں انہوں نے مجھے کہا تھا کہ میری کمپنی کی طرف سے جو حقوق ملیں گے وہ میری بچیوں کے ہیں ان میں کوئی حصہ دار نہیں۔اب یہ معلوم کرنا ہے کہ ان سارے حقائق کی روشنی میں میری سوتن کا ان حقوق کی رقم میں سے کوئی حصہ بنتا ہے یا نہیں ؟

جواب

میراث کے احکام ان اموال میں جاری ہوتے ہیں جو میت کی زندگی میں اس کی ملکیت میں ہوں چنانچہ جو مال بوقتِ وفات اس کی ملکیت میں نہ ہو بلکہ اس کی وفات کے بعد کسی پیکج وغیرہ کی صورت میں اس کے پسماندہ گان کو دیا جائے تو وہ ترکہ میں شمار نہ ہو گا ۔

                صورت مسؤلہ میں مذکورہ شخص کے فوت ہونے کے بعد جو رقم کمپنی کی جانب سے  اس کے پسماندہ گان کو دی جاتی ہے اگر یہ رقم مرحوم کی ذاتی ملکیت  جیسے تنخواہ وغیرہ نہ ہو بلکہ کمپنی اپنی طرف سے بطور امداد یہ رقم دیتی ہو تو شرعا ًاس میں میراث کے احکام  جاری نہ ہوں گے کیونکہ یہ مرحوم کا ترکہ نہیں  بلکہ کمپنی کی جانب سے عطیہ ہے  لہذا کمپنی کی جانب سے جن ورثا  کو یہ رقم دی جاتی ہے وہی اس کے مالک متصور ہوں گے ۔

العطایا لا یورث ۔(شرح الأشباه والنظائر ،ج2ص495)

ولا يصح الصلح والاعتياض لأن الاعتياض عن حق الغير لا يصح ولا يجري فيه الإرث لأن الإرث إنما يجري في المتروك من ملك أو حق للمورث على ما قال عليه الصلاة والسلام من ترك مالا أو حقا فهو لورثته ولم يوجد شيء من ذلك فلا يورث ولا يجري فيه التداخل۔(بدائع الصنائع ،كتاب الحدود ،قبيل مقدار الواجب منها ج9ص250)


فتویٰ نمبر : 4583/297/328

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں