بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 12/08/2026

دارالافتاء

 

کاغذی انتقال سے پہلے خریدے ہوئے پلاٹ میں وراثت کا حکم


سوال

میرے شوہر شیراز صابر کے نام پر ایک مکان ہے اور ایک پلاٹ جو کہ ان کے نام پر ٹرانسفر نہیں ہوا تھا بلکہ پلاٹ کے مالک کے نام پر ہےانہوں نے پلاٹ تجارت کی غرض سے نفع کیلئے خریدا تھا اب سوال یہ ہے کہ کیا اس میں ان کی دوسری بیوی اور والد صاحب کا حصہ بنتا ہے یا نہیں ؟

جواب

کسی پلاٹ یا مکان کو خریدنے کے بعد اس کا قانونی کاغذی انتقال گو کہ بہتر ہے  لیکن شرعاً خرید وفروخت کی صحت (درستگی )اور ملکیت کا ثبوت کاغذات میں انتقال پر موقوف  نہیں ۔

                لہذا صورت مسؤلہ  میں  اگر سائلہ کے مرحوم شوہر  نے واقعی مذکورہ  پلاٹ خریدا ہو اور قیمت کی ادائیگی  بھی کی ہو  تو اگر چہ پلاٹ  کی کاغذی کاروائی  شوہر  کے نام  نہ ہوئی ہو تب بھی اس پلاٹ پر ترکہ کے احکام جاری ہوں گے لہذا مرحوم کے سب ورثا  (بشمول  دوسری بیوہ) اس پلاٹ میں اپنے اپنے حصہ کے بقدر میراث لینے  کے حقدار ہوں گے ۔

البيع ينعقد بإيجاب وقبول  ۔۔۔ فلو قال البائع بعت ثم قال المشتري اشتريت أو قال المشتري أولا اشتريت ثم قال البائع بعت انعقد البيع۔(المجلۃ،الفصل الأول فيما يتعلق بركن البيع،ج1ص34)

المراد من التركة ما تركه الميت خاليا عن تعلق حق الغير بعينه۔(البحر الرائق ،كتاب الفرائض ،ج9ص365)


فتویٰ نمبر : 4088/297/323

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں