بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 25/10/2026

دارالافتاء

 

رخصتی سے قبل خاوند کے مرنے کی صورت میں مہر کا حکم


سوال

من مسماۃ عاصمہ شیراز (زوجہ شیراز صابر )بنت بہادر شیر کی شادی 2001ء میں شیراز صابر سے ہوئی تھی اور ہماری تین بچیاں ہیں ان کے والد غلام صابر حیات ہے جبکہ والدہ حیات نہیں ۔میرے شوہر (مرحوم شیراز صابر )جو کہ سعودیہ میں ملازمت کرتے تھے ان کا انتقال جدہ میں 27 دسمبر 2020 ء بروز اتوار ہو ا،کچھ مہینہ قبل انہوں نے مجھے بتایا کہ جنوری 2020ءمیں انہوں نے دوسرا نکاح کیا تھا گو کہ رخصتی ابھی نہیں ہوئی صرف نکاح (غیر مدخول بھا)ہوا تھا ۔اب پوچھنا یہ ہے کہ شرعی لحاظ سے مرحوم کی دوسری بیوی کا جو بھی حق مہر مقرر ہے اس کا حق بنتا ہے یا نہیں ؟اور اگر بنتا ہے تو کتنا ؟

جواب

نکاح منعقد ہونے کے بعد اگر خاوند ہم بستری سے قبل ہی فوت ہو جائے تب بھی بیوی مکمل مہر اور میراث کی حقدار ہوتی ہے ۔

صورت مسؤلہ میں اگر واقعتاً سائلہ کے شوہر نے دوسرا نکاح کیا ہو اور رخصتی نہ ہوئی ہو تب بھی وہ مکمل مقررہ مہر کی حقدار ہ ے ،لہذا گر شوہر نے زندگی میں اس کو حق مہر نہ دیا ہو تو اب اس کے ترکہ میں سے اس کو حق مہر دیا جائے گا اس لیے کہ حق مہر شوہر کے ذمے دین (قرض ) ہو تا ہے ۔

ومن سمی مہرا عشرۃ فما زاد ،فعلیہ المسمی إن دخل بها أو مات عنها ۔۔۔فلان المسمى دين في ذمته ۔(الهداية،كتاب النكاح ،باب المهر ،ج2ص346)

وإذا تأكد المهر لم يسقط وإن جاءت الفرقة من قبلها۔(الفتاوى الهندية ،كتاب النكاح ،الباب السابع في المهر ،الفصل الثاني ۔ج1ص306)


فتویٰ نمبر : 6215/297/324

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں