بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم
| لاگ ان | 25/10/2026 |
دارالافتاء
ظالمانہ ٹیکس سے بچنے کے لیےجھوٹ بولنے کا حکم
سوال
آج کل حکومت ٹیکس لاگو کرنےمیں انصاف سے کام نہیں لیتی،بلکہ ٹیکس کی شرح ظالمانہ ہوتی ہے،تو کیا ظالمانہ ٹیکس سے بچنے کے لیے جھوٹ بولنے کی گنجائش ہے یا نہیں؟
جواب
واضح رہے کہ کسی بھی ملک وملت کے انتظامی امور چلانے اور اخراجات کو پورا کرنے کے لیے وسائل کی ضرورت ہوتی ہے،چنانچہ ان وسائل کو پورا کرنے کے لیےنبی کریمﷺ،خلفاء راشدین اور ان کے بعد کے دور میں بیت المال کا ایک مستقل ومربوط نظام قائم تھااور اس میں مختلف قسم کے اموال مثلاً:خمس غنائم ،مال فئی،خراج،جزیہ وغیرہ جمع کیے جاتے تھےاور ان ذرائع آمدن کے مقابلے میں حکومتی اخراجات اور ریاست کی ذمہ داریاں اس وقت نسبتاًمحدود تھیں،اس لیے یہ ذرائع آمدن اخراجات کے لیے کافی تھےاور لوگوں پر ٹیکس لگانے کی ضرورت ہی پیش نہیں آتی تھی،لیکن آج کےدور میں جبکہ مذکورہ اسباب اور وسائل تقریباً ناپید ہوچکے ہیں اور اخراجات وذمہ داریاں،بڑھ گئی ہیں،اس لیے ان ضروریات واخراجات کو پورا کرنے کے لیے ٹیکس کا نظام قائم کیا گیا ،کیوں کہ حکومت اگر ٹیکس نہ لے تو ملک کا فلاحی نظام خطرہ میں پڑجائے گا،اس لیے امور مملکت چلانے کی خاطر لوگوں سے ٹیکس لینے کی گنجائش ہے ،تاہم ا س میں ضروری ہےکہ:
1۔ضرورت کی وجہ سے ٹیکس لگایا جائے،یعنی حکومت کی ذمہ داریاں اور اخراجات بڑھ جانے کی وجہ سے اگر ذرائع آمدن سے ان کا پورا کرنا مشکل ہو اور ٹیکس لگانے کے علاوہ اور کوئی چارہ نہ ہو،تو ایسی صورت میں ٹیکس لگانے کی گنجائش ہے۔
2۔ٹیکس کو ملک وملت کے حقیقی مصالح میں صرف کیا جائے،لہو ولعب اور حکمرانوں کی شاہ خرچیوں اورآسائشوں پرصرف نہ کیا جائے۔
3۔ٹیکس کی شرح ظالمانہ نہ ہو ،بلکہ ٹیکس کے بوجھ کو لوگوں میں منصفانہ طریقے سے تقسیم کیا جائےاورکسی پر ظلم وزیادتی نہ ہو،یعنی تمام طبقوں سے ان کی حیثیت کے مطابق ٹیکس لیا جائے۔
اگر ٹیکس میں ان شرائط کی پاسداری کی جائے،تو پورے ٹیکس کی ادائیگی لازم ہے ،البتہ اگرٹیکس کی شرح ظالمانہ ہو تو اس طرح ظالمانہ ٹیکس سے بچنے کے لیےحیلہ اور کوئی مناسب تدبیر اختیار کرنے کی گنجائش ہے۔
لہذا صورت مسئولہ کے مطابق اگر حکومت ٹیکس لا گو کرنے میں انصاف کے تقاضوں کو پورا نہ کرےاور ٹیکس کی شرح ظالمانہ ہونے کی وجہ سے لوگوں کےلیے قابل برداشت نہ ہو ،تو اضافی ٹیکس سے بچنے کےلیے کوئی متبادل راستہ اختیار کرنے کی گنجائش ہے،البتہ صریح جھوٹ،دھوکہ اور فریب کی اجازت نہیں ۔باقی یہ بات کہ حکومت کتنی مقدار میں ٹیکس جائز وصول کررہی ہےاور کتنی ناجائز ؟اس کے بارے میں ٹیکس کے ماہرین ہی بتاسکتے ہیں،ہر فرد کے بارے میں یہ یقین سے نہیں کہا جاسکتا کہ اس سے ناجائز ٹیکس لیا جارہاہے ،ہاں اگر کسی کو ٹیکس نظام کے بارے میں یقین ہوکہ اتنی مقدار غیر ضروری اور ناجائز ہے،تو ظلم سے بچنے کے لیے قانونی ذرائع سےاستفادہ کرنے میں کوئی حرج نہیں۔
تصرؔف الإمام على الرّعية منوط بالمصلحة... وممّا يتفرّع على هذه القاعدة أنّ للوالي أن يعطي من طريق الجادة ليبني عليه إذا كان لايضرّبالعامة وإن كان يضرّ ليس له ذلك.(شرح المجلة، سليم رستم باز، المقالة الثانية في بيان قواعد الفقه، المادة:58ص:42 المكتبة الحبيبية)
قال شمس الأئمة:أمّا في زماننا فأكثر النّوائب تؤخذ ظلماً فمن تمكن من دفع الظلم عن نفسه فهو خيرله.(فتح القدير،كتاب الكفالة،فصل في الضمان،ج:6ص:332،مكتبة حقانية)
الكذب مباح لإحياء حقه ودفع الظلم عن نفسه،والمراد التعريض؛لأنّ عين الكذب حرام،قال وهوالحق قال تعالى:﴿قتل الخرّاصون ﴾(الدرالمختار،كتاب الحظر والإباحة،باب الإستبراء وغيره،ج:9ص:612،دارالكتب العلمية)
تلاش
تلاش
- کتاب العقائد | فتاوئ : 329
-
کتاب الطّہارۃ | فتاوئ : 246
-
کتاب الصلوۃ | فتاوئ : 894
- نمازوں کے اوقات
- اذان واقامت کے احکام
- نمازکاطریقہ اورشرائط وارکان
- نمازکے واجبات
- نمازتوڑنے والے کام
- نمازکومکروہ بنانے والے کام
- سُترہ کے احکام
- امامت اورجماعت کے مسائل
- وترکے احکام
- سُنن اورنوافل
- تراویح
- سجدہ سہوکے احکام
- سجدہ تلاوت کے احکام
- نمازِجمعہ
- نمازِعیدین
- مسافرکی نماز
- مریض اورمعذورکی نماز
- فوت شدہ نمازوں کی قضا
- استسقاء اورکسوف وخسوف کی نماز
- احکامِ میت اورنمازِجنازہ
- باب زلۃ القاری
- ادعیہ
- کتاب الزکوٰۃ | فتاوئ : 455
- کتاب الصوم | فتاوئ : 91
- کتاب الحج | فتاوئ : 112
- کتاب النکاح | فتاوئ : 576
- کتاب الطلاق | فتاوئ : 494
- خلع | فتاوئ : 50
-
ظہار | فتاوئ : 6
-
ایلاء | فتاوئ : 4
-
ثبوتِ نسب | فتاوئ : 7
-
نفقات | فتاوئ : 33
-
حضانت(بچوں کی پرورش کاحق) | فتاوئ : 36
-
عدت کے احکام | فتاوئ : 60
-
کتاب الشرکۃ(شرکت کے احکام) | فتاوئ : 88
- کتاب البیوع(خریدوفروخت) | فتاوئ : 477
-
کتاب الربا(سودکے احکام) | فتاوئ : 102
-
کتاب الکفالۃ(ضمانت،گارنٹی کے احکام) | فتاوئ : 8
-
کتاب المضاربۃ(مضاربت کے احکام) | فتاوئ : 78
-
کتاب القرض والدین | فتاوئ : 82
-
کتاب الودیعۃ والامانۃ(امانت کے احکام) | فتاوئ : 22
-
کتاب الھبۃ(تحفہ کے احکام) | فتاوئ : 177
-
کتاب الاجارۃ(کرایہ داری اورملازمت کے احکام) | فتاوئ : 413
-
کتاب الشفعۃ | فتاوئ : 22
-
کتاب الرھن(گروی کے احکام) | فتاوئ : 8
-
کتاب المزارعۃوالمساقاۃ(مزارعت اورباغبانی کے احکام) | فتاوئ : 32
-
کتاب الصید(شکارکے احکام) | فتاوئ : 3
-
کتاب الذبائح(جانوروں کے ذبح کرنے کے احکام) | فتاوئ : 8
- کتاب الاضحیۃ والعقیقۃ(قربانی اورعقیقہ کے مسائل) | فتاوئ : 199
-
کتاب القسمۃ(تقسیم کے احکام) | فتاوئ : 5
-
کتاب اللقطۃ واللقيط(گری پڑی چیزيابچےکے متعلق احکام) | فتاوئ : 18
- کتاب الایمان والنذور(قسموں اورمنت کے احکام) | فتاوئ : 154
- کتاب القصاص والحدود والدیۃ | فتاوئ : 63
-
کتاب السیروالجہاد | فتاوئ : 2
- کتاب القضاء | فتاوئ : 19
-
کتاب الوکالۃ | فتاوئ : 43
-
کتاب الغصب | فتاوئ : 3
- کتاب الجنایات | فتاوئ : 34
- کتاب الوقف | فتاوئ : 324
-
کتاب الحظروالاباحۃ(حلال وحرام کے احکام) | فتاوئ : 1193
- کھانے پینے کے احکام
- لباس کے احکام
- حجاب کے احکام
- بالوں کے احکام
- زیب وزینت کے مسائل
- ولیمہ کے مسائل
- ناموں کابیان
- ختنہ کابیان
- حلال وحرام کمائی کے مسائل
- علاج معالجہ اوردواؤں کے احکام
- دم ،تعویذاورذکرواذکارکے مسائل
- سلام اورمصافحہ کے مسائل
- تصاویرکے مسائل
- لہولعب،کھیل کود اورمزاح کے مسائل
- شعروشاعری کے مسائل
- جانورپالنے کے احکام
- دیگرمتفرق مسائل
- صدقات نافلہ
-
کتاب الوصیۃ | فتاوئ : 34
- کتاب الفرائض(میراث کے مسائل) | فتاوئ : 388
-
کتاب الشہادۃ (گواہی کے احکام) | فتاوئ : 18
-
کتاب الماذون | فتاوئ : 1
سوال پوچھیں
اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے
سوال پوچھیں