بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 21/10/2026

دارالافتاء

 

قرض پر نفع حاصل کرنے کی ایک صورت


سوال

:(1)کورس سے متعلق ضروری کتب اور نوٹس اگر یونیورسٹی کے طلبہ /منتظمین مخصوص کردہ  بک سیلر سے خود خریدتے ہو ں  اور پیسوں کی ادائیگی ایک تیسرا شخص  کرے تو ایسی صورت میں یہ تیسرا شخص  کورس کے اختتام پر ادا کردہ قیمت  سے زائد  رقم وصول کر سکتا ہے یا نہیں ؟

(2)اور اگر یہ تیسرا شخص  کتابیں اور نوٹس  خود خرید کر یونیورسٹی کے طلبہ  پر قیمت ِ خرید سے زیادہ  قیمت پر قسط وار فروخت کرے تو شرعا یہ جائز ہے یا نہیں ؟

جواب

قسط وار بیع میں زیادہ قیمت  کے عوض اشیا فروخت کرنے کاروبار شریعت کی رو سے جائز ہے ،بشرط یہ کہ اس میں تجارت کے دوسرے  شرعی اصول اور قواعد کی مکمل رعایت ہو ۔

                صورت مسؤلہ میں (1)اگر کتابوں کی خریداری یونیورسٹی کے سٹوڈنٹس خو دکرتے ہوں اور مذکورہ شخص خریداروں کی طرف سے قیمت کی ادائیگی کرتا ہو تو ایسی صورت میں ادا کردہ قیمت کے بقدر یہ  رقم  خریداروں  کے ذمہ قرض ہوگا  لہذا  مذکورہ   شخص یعنی قیمت ادا کرنے والے  کیلئے قرض کے عوض مشروط زیادہ رقم وصول کرنا سود ہے جو کہ جائز نہیں ۔

(2)لیکن  اگر یہ شخص نقد قیمت کے ساتھ کتابیں وغیرہ  اپنے لیے  خرید  تا ہو اور کچھ نفع کے ساتھ یونیورسٹی  کے طلبہ  پر قسط وار فروخت کر تا ہو تو پھر اس اضافی رقم  کے لینے میں کوئی حرج نہیں ،اس لیے کہ وہ ایک مستقل عقد کے ساتھ ان پر یہ کتابیں /نوٹس فروخت کرتا ہے  جس کا نفع لینا اس کیلئے جائز ہے ۔

   کل قرض جر نفعا حرام ۔(الدر المختار ،کتاب البیوع ،باب المرابحۃ والتولیۃ ،ج7ص395)

المرابحۃ نقل ما ملکہ بالعقد الاول بالثمن الاول مع زیادۃ ربح ۔( الھدایۃ، کتاب البیوع ،باب المرابحۃ  والتولیۃ ،ج3ص74)

لان للاجل شبھا بالمبیع ،الا تری انہ یزاد فی الثمن لاجل الاجل ۔(ایضا  ،ج3ص78)


فتویٰ نمبر : 2807/297/322

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں