بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 25/10/2026

دارالافتاء

 

چچازاد بھائی کو ہبہ کی گئی چیز میں رجوع کرنے کا حکم


سوال

اگرایک چچازادبھائی (زید)دوسرے چچازادبھائی(بکر)کوکوئی چیزہبہ کردےتوکیارجوع کرسکتاہے یانہیں؟

جواب

واضح رہے کہ جب کوئی شخص اپنی مملوکہ چیز کسی کو ہبہ کردے،تو اس سے مقصود ثواب کے علاوہ موہوب لہ کی عزت وتوقیراور باہمی الفت ومحبت اورقربت کا مظاہرہ کرنا ہوتا ہے ۔چنانچہ اسی وجہ سے اگر کوئی شخص اپنے ذی رحم رشتہ دارکو کوئی چیز ہبہ کردےتو اس سے رجوع جائز نہیں ،کیونکہ ذی رحم محرم سے رجوع کے جائز ہونے میں قطع تعلق اور کبیدہ خاطری کا امکان ہے ۔البتہ اگر موہوب لہ محرم تو ہو ،لیکن ذی رحم نہ ہو  جیسے رضاعی رشتہ دار ،یا ذی رحم تو ہو لیکن محرم نہ ہوجیسے چچا زاد بھائی وغیرہ تو اس صورت  میں قبضہ دینے سے پہلے موہوب لہ کی رضامندی کے بغیر بھی ہبہ سے رجوع درست ہے ،اگر چہ ایسا کرنا کراہت سے خالی نہیں،اور قبضہ دینے کے بعد موہوب لہ کی رضامندی یا قاضی کے فیصلےکے ساتھ ہبہ سے رجوع کرنا درست ہوتا ہے ،تاہم قبضہ دینے کے بعد ہبہ سے رجوع مکروہ تحریمی ہے،اس لیےاس سے احترازکرنا چاہیے۔

صورت مسئولہ میں واہب (زید)کا اپنےچچازادبھائی (بکر )سے موہوبہ چیز واپس لینا کراہت کے ساتھ جائز ہے ،اس لئے کہ چچا زاد اگر چہ ذی رحم ہے لیکن محارم میں سےنہیں،لہٰذا واہب کا ہبہ سے رجوع کرنا جائز ہے ،لیکن یاد رہےکہ یہ اچھے اخلاق کا تقاضا نہیں چنانچہ حدیث میں ہبہ سےرجوع کی تشبیہ  کتے کا اپنی قےچاٹنے سے دی گئی ہے،جو اخلاقیات کا تقاضا نہیں۔

للواهب أن يراجع عن الهبة قبل القبض بدون رضا الموهوب له ...وهل يكره ذلك  کما یکرہ الرجوع بعدالقبض؟الظاھرأنّھا لاتخلوعن الکراھۃ،لأنّ الرجوع لیس بأقل من الخلف بالوعد۔۔۔وثبوت حق الرجوع للواھب قضاءًلا ینافي أنّ ذلک مکروہ تحریماً۔ (شرح المجلۃللاتاسی،کتاب الھبۃ،الباب الثالث في بیان أحکام الھبۃ،ج:3ص:383 المکتبۃ الحبیبيۃ)

فلووھب لذی رحم محرم منہ نسباًولوذمیاًاومستأمناًلایرجع،خرج من کان ذارحم ولیس بمحرم،ومن کان محرماًولیس بذی رحم،فالأول:کابن العم،فإذاکان أخاہ من الرضاع أیضاًفھو خارج أیضاً۔(ردالمحتار،کتاب الھبۃ،باب الرجوع فی الھبۃ،ج:8ص512 دارالکتب العلمیة)

وأماشرط صحۃ الرجوع بعد ثبوت الحق بقضاءالقاضی أو التراضی،حتی لا یصح بدون القضاءوالرضا؛لأن الرجوع فسخ العقد بعدتمامہ،وفسخ العقد بعد تمامہ لایصح بدون القضاءوالرّضا،کالردبالعیب في البیع الفاسد۔(بدائع الصنائع،کتاب الھبۃ،فصل فی حکم الھبۃ،ج:8ص122، دارالکتب العلمیۃ)


فتویٰ نمبر : 4587/297/328

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں