بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم
| لاگ ان | 25/10/2026 |
دارالافتاء
جھوٹے مقدمات کا جھوٹے مقدمات سے دفاع کرنا
سوال
ایک شخص پر اس کے مخالف نے جھوٹے مقدمات بنائے۔اس شخص نے وکیل کو کہا کہ تم بھی میری طرف سے جھوٹے مقدمات بناو تاکہ پوزیشن متوازی ہو جائے اور دونوں عدالتوں کے چکر سے نکل جائے۔وکیل کا یوں جھوٹے مقدمات بنانا کیسا ہے
جواب
واضح رہے کہ کسی جائز اور متعین تصرف میں اپنی جگہ کسی دوسرے شخص کو قائم مقام بنانا وکالت ہے۔ اور وکالت میں جن امور کا ارتکاب مؤکل کے لیے جائز نہیں ، ان امور کا ارتکاب وکیل کے لیے بھی جائز نہیں، مثلا: جھوٹ بولنا، دھوکہ دینا وغیرہ۔
صورتِ مسؤلہ کے مطابق اگر ایک شخص پر اس کے مخالف نے جھوٹے مقدمات بنائے ہوں اور یہ شخص اپنے وکیل سے کہتا ہے کہ تم بھی میری طرف سے اس پر جھوٹے مقدمات بناؤ، تاکہ پوزیشن متوازی ہوجائے تو اس میں چونکہ صریح جھوٹ بولنے کا ارتکاب لازم آتا ہے، لہذا وکیل کےلیے مؤکل کے کہنے پر اس طرح کے جھوٹے مقدمات بنانا جائز نہیں اور نہ مؤکل کے لیے اپنے وکیل سے اس طرح کا نا حق مطالبہ کرنا جائز ہے۔ تا ہم اگر مقدمات بنانے سے وکیل کا مقصد مؤکل سے ظلم دفع کرنا ہو تو کوئی ایسا مناسب راستہ ڈھونڈلے جہاں صراحتہ جھوٹ بولنا نہ پڑے۔
﴿وَلا تَكُنْ لِلْخَائِنِينَ خَصِيماً﴾. وفي هذا دليل على أن النيابة عن المبطل والمتهم في الخصومة لا تجوز. فلا يجوز لأحد أن يخاصم عن أحد إلا بعد أن يعلم أنه محق. (التفسير للقرطبي، ،ج3، ص 377(
كل عقد جاز أن يعقده الإنسان بنفسه جاز أن يوكل به غيره۔ (الہداية ، کتاب الوکالة، ج 3، ص 185)
الكذب مباح لإحياء حقه ودفع الظلم عن نفسه، والمراد التعريض لأن عين الكذب حرام. ( الدر المختار، کتاب الحظر والاباحة، ج 9، ص 612)
تلاش
تلاش
- کتاب العقائد | فتاوئ : 329
-
کتاب الطّہارۃ | فتاوئ : 246
-
کتاب الصلوۃ | فتاوئ : 894
- نمازوں کے اوقات
- اذان واقامت کے احکام
- نمازکاطریقہ اورشرائط وارکان
- نمازکے واجبات
- نمازتوڑنے والے کام
- نمازکومکروہ بنانے والے کام
- سُترہ کے احکام
- امامت اورجماعت کے مسائل
- وترکے احکام
- سُنن اورنوافل
- تراویح
- سجدہ سہوکے احکام
- سجدہ تلاوت کے احکام
- نمازِجمعہ
- نمازِعیدین
- مسافرکی نماز
- مریض اورمعذورکی نماز
- فوت شدہ نمازوں کی قضا
- استسقاء اورکسوف وخسوف کی نماز
- احکامِ میت اورنمازِجنازہ
- باب زلۃ القاری
- ادعیہ
- کتاب الزکوٰۃ | فتاوئ : 455
- کتاب الصوم | فتاوئ : 91
- کتاب الحج | فتاوئ : 112
- کتاب النکاح | فتاوئ : 576
- کتاب الطلاق | فتاوئ : 494
- خلع | فتاوئ : 50
-
ظہار | فتاوئ : 6
-
ایلاء | فتاوئ : 4
-
ثبوتِ نسب | فتاوئ : 7
-
نفقات | فتاوئ : 33
-
حضانت(بچوں کی پرورش کاحق) | فتاوئ : 36
-
عدت کے احکام | فتاوئ : 60
-
کتاب الشرکۃ(شرکت کے احکام) | فتاوئ : 88
- کتاب البیوع(خریدوفروخت) | فتاوئ : 477
-
کتاب الربا(سودکے احکام) | فتاوئ : 102
-
کتاب الکفالۃ(ضمانت،گارنٹی کے احکام) | فتاوئ : 8
-
کتاب المضاربۃ(مضاربت کے احکام) | فتاوئ : 78
-
کتاب القرض والدین | فتاوئ : 82
-
کتاب الودیعۃ والامانۃ(امانت کے احکام) | فتاوئ : 22
-
کتاب الھبۃ(تحفہ کے احکام) | فتاوئ : 177
-
کتاب الاجارۃ(کرایہ داری اورملازمت کے احکام) | فتاوئ : 413
-
کتاب الشفعۃ | فتاوئ : 22
-
کتاب الرھن(گروی کے احکام) | فتاوئ : 8
-
کتاب المزارعۃوالمساقاۃ(مزارعت اورباغبانی کے احکام) | فتاوئ : 32
-
کتاب الصید(شکارکے احکام) | فتاوئ : 3
-
کتاب الذبائح(جانوروں کے ذبح کرنے کے احکام) | فتاوئ : 8
- کتاب الاضحیۃ والعقیقۃ(قربانی اورعقیقہ کے مسائل) | فتاوئ : 199
-
کتاب القسمۃ(تقسیم کے احکام) | فتاوئ : 5
-
کتاب اللقطۃ واللقيط(گری پڑی چیزيابچےکے متعلق احکام) | فتاوئ : 18
- کتاب الایمان والنذور(قسموں اورمنت کے احکام) | فتاوئ : 154
- کتاب القصاص والحدود والدیۃ | فتاوئ : 63
-
کتاب السیروالجہاد | فتاوئ : 2
- کتاب القضاء | فتاوئ : 19
-
کتاب الوکالۃ | فتاوئ : 43
-
کتاب الغصب | فتاوئ : 3
- کتاب الجنایات | فتاوئ : 34
- کتاب الوقف | فتاوئ : 324
-
کتاب الحظروالاباحۃ(حلال وحرام کے احکام) | فتاوئ : 1193
- کھانے پینے کے احکام
- لباس کے احکام
- حجاب کے احکام
- بالوں کے احکام
- زیب وزینت کے مسائل
- ولیمہ کے مسائل
- ناموں کابیان
- ختنہ کابیان
- حلال وحرام کمائی کے مسائل
- علاج معالجہ اوردواؤں کے احکام
- دم ،تعویذاورذکرواذکارکے مسائل
- سلام اورمصافحہ کے مسائل
- تصاویرکے مسائل
- لہولعب،کھیل کود اورمزاح کے مسائل
- شعروشاعری کے مسائل
- جانورپالنے کے احکام
- دیگرمتفرق مسائل
- صدقات نافلہ
-
کتاب الوصیۃ | فتاوئ : 34
- کتاب الفرائض(میراث کے مسائل) | فتاوئ : 388
-
کتاب الشہادۃ (گواہی کے احکام) | فتاوئ : 18
-
کتاب الماذون | فتاوئ : 1
سوال پوچھیں
اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے
سوال پوچھیں