بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم
| لاگ ان | 21/10/2026 |
دارالافتاء
دوسرے وکیل کا وکیل اول کو فیس میں حصہ دینا
سوال
کہ اگر ایک شخص عمر کا پیشہ وکالت ہے اس کے پاس ایک بندہ حارث کیس لے کر آتا ہے عمر کیس دوسرے وکیل نصر کو بھیجتا ہے نصر حارث سے فیس وصول کرتا ہے نصر نے بعد میں اپنی طرف سے عمر کو بھی فیس میں سے کچھ حصہ دیا عرف بھی یہی ہےکہ اگر ایک وکیل دوسرے وکیل کو کیس دے تو دینے والے کا بھی حصہ دیا جاتا ہے اب عمر کے لیے نصر سے پیسے لینا جائز ہے یا نہیں، عرف اگر چل رہا ہے تو پھر کیا حکم ہے اور اگر کسی جگہ عرف نہیں تو پھر کیا حکم ہے؟
جواب
واضح رہےکہ اگر کوئی شخص عدالت میں اپنے کیس کو مناسب انداز میں پیش کرنے کی اہلیت نہ رکھتا ہو تو وہ کسی بھی ایسے شخص کی خدمات حاصل کر سکتا ہے جو اس کی بات کو اچھے انداز میں بیان کر سکے اور اس کی صحیح نمائندگی کرسکے جس کو اصطلاح میں وکیل بالخصومت کہتے ہیں. اور شرعاً یہ توکیل جائز ہے نیز وکیل بالخصومت کے لیےمؤکل سے اپنے خدمات کے بدلے اجرت لینا بھی جائز ہے البتہ وکیل کے لیے یہ جائز نہیں کہ مؤکل کی اجازت کے بغیر کسی دوسرے شخص کو اُس کام کے لیے وکیل بنائے جس کام کے لیے مؤکل نے اس کو وکیل بنایا ہے کیونکہ مؤکل اس وکیل کی صلاحیت پر اعتماد کر کے اس کوفیس دے کر اپنا وکیل مقرر کرتا ہےدوسرے وکیل کے بارے میں ضروری نہیں کہ وہی اعتماد ہو۔ تاہم اگر وکیل مؤکل کی اجازت سے دوسرےوکیل کو اس غرض سے شریک کرے کہ اس کی مہارت اور تجربے سے اس کیس کو تقویت ملے یا اس کی عدم موجودگی میں وہ مقدمہ لڑے تو اس صورت میں جو اجرت ان کو ملے گی وہ اجرت دونوں کے درمیان باہمی معا ہدہ سے تقسیم ہوگی جس کی تعیین باہمی طور پر پہلے سے ضروری ہے۔ علاوہ ازیں اگر وکیل اول نے محض مؤکل کی وکیل ثانی کی طرف رہنمائی کی تو وکیل اول کے لیے اس کے عوض مؤکل یا وکیل ثانی سے اجرت طلب کرنا جائز نہیں کیونکہ اس میں وکيل اول کی کوئی ایسی محنت شامل نہیں جس کا وہ معاوضہ طلب کر سکے دوسرے وکیل کی طرف رہبری میں وکیل اول کا کردار محض اعتماد کی جگہ کی نشاندہی ہے جس کی وجہ سے شرعا وہ معاوضہ کا حقدار نہیں ہوتا۔ صورت مسئولہ کے مطابق اگر وکیل اول مؤکل کی اجازت سے دوسرے ماہر وکیل کو شریک کرے تاکہ کیس کو اس کی مہارت سے تقویت ملے یا اس کی عدم موجودگی میں وکیل ثانی مقدمہ لڑ سکے اور دونوں وکیلوں کے درمیان باہمی معاہدہ سے اجرت تقسیم ہو جائے تو ایسی صورت میں وکیل اول کے لیے اجرت لینا جائز ہے لیکن اگر وکیل اول صرف موکل کو دوسرے وکیل کی طرف بھیجےاورمحض اس کی رہنمائی کرے تو اس صورت میں وکیل اول، موکل یا وکیل ثانی سے اجرت طلب کرنے کا حقدار نہیں۔ جہاں تک وکیل ثانی کا وکیل اول کو یہ رقم بطور تبرع واحسان دینے کا مسئلہ ہےتو چونکہ اس رقم دینے میں اس بات کا اندیشہ ہے کہ یہ بطور رشوت اس غرض سے دی جاتی ہو کہ آئندہ بھی وکیل اول استعداد وصلاحیت سے قطع نظرکرکے اس کےپاس لوگوں کو بھیجتا رہےاس لیے سد ذرائع کی وجہ سے وکیل اول کے لیے اس رقم سے اجتناب ضروری ہے۔
ويجوزالوكالة بالخصومة في سائرالحقوق لما قدمنا من الحاجة إذ ليس كل أحد يهتدي إلى وجوه الخصومات وقد صح أن عليا وكل فيها عقيلا وبعد ما أسن وكل عبدالله بن جعفر۔ (الھدایة، کتاب الوکالۃ،ج۳/ص۲۵۹،مکتبة البشری)
ليس لمن وكل بأمرأن يوكل به غيره.لأن المؤكل فوض إليه التصرف دون التوكيل به وقد رضي برأيه دون غيره والناس مختلفون في الآراء.( شرح المجلة،لسلیم رستم باز،المادة١٤٦٦,ص٧٨٧)
إذا أخذ الوكيل الأجرة لإقامة الوكالة، فانه غير ممنوع شرعا إذ الوكالة عقد جائز لايجب على الوكيل اقامتها، فيجوز أخذ الأجرة فيها. (فتح القدیر،کتاب الوکالة،ج۷/ص۲)
وأما الشركة بالأعمال فهو أن يشتركا على عمل من الخياطة أو القصارة أوغيرهما فيقولا: اشتركنا على أن نعمل فيه على أن ما رزق الله ۔عزوجل۔ من اجرة فهي بيننا على شرط كذا. (بدائع الصنائع،کتاب الشرکة،ج۷/ص۵۰۳، دارالکتب العلمیة)
تلاش
تلاش
- کتاب العقائد | فتاوئ : 329
-
کتاب الطّہارۃ | فتاوئ : 246
-
کتاب الصلوۃ | فتاوئ : 894
- نمازوں کے اوقات
- اذان واقامت کے احکام
- نمازکاطریقہ اورشرائط وارکان
- نمازکے واجبات
- نمازتوڑنے والے کام
- نمازکومکروہ بنانے والے کام
- سُترہ کے احکام
- امامت اورجماعت کے مسائل
- وترکے احکام
- سُنن اورنوافل
- تراویح
- سجدہ سہوکے احکام
- سجدہ تلاوت کے احکام
- نمازِجمعہ
- نمازِعیدین
- مسافرکی نماز
- مریض اورمعذورکی نماز
- فوت شدہ نمازوں کی قضا
- استسقاء اورکسوف وخسوف کی نماز
- احکامِ میت اورنمازِجنازہ
- باب زلۃ القاری
- ادعیہ
- کتاب الزکوٰۃ | فتاوئ : 455
- کتاب الصوم | فتاوئ : 91
- کتاب الحج | فتاوئ : 112
- کتاب النکاح | فتاوئ : 576
- کتاب الطلاق | فتاوئ : 494
- خلع | فتاوئ : 50
-
ظہار | فتاوئ : 6
-
ایلاء | فتاوئ : 4
-
ثبوتِ نسب | فتاوئ : 7
-
نفقات | فتاوئ : 33
-
حضانت(بچوں کی پرورش کاحق) | فتاوئ : 36
-
عدت کے احکام | فتاوئ : 60
-
کتاب الشرکۃ(شرکت کے احکام) | فتاوئ : 88
- کتاب البیوع(خریدوفروخت) | فتاوئ : 477
-
کتاب الربا(سودکے احکام) | فتاوئ : 102
-
کتاب الکفالۃ(ضمانت،گارنٹی کے احکام) | فتاوئ : 8
-
کتاب المضاربۃ(مضاربت کے احکام) | فتاوئ : 78
-
کتاب القرض والدین | فتاوئ : 82
-
کتاب الودیعۃ والامانۃ(امانت کے احکام) | فتاوئ : 22
-
کتاب الھبۃ(تحفہ کے احکام) | فتاوئ : 177
-
کتاب الاجارۃ(کرایہ داری اورملازمت کے احکام) | فتاوئ : 413
-
کتاب الشفعۃ | فتاوئ : 22
-
کتاب الرھن(گروی کے احکام) | فتاوئ : 8
-
کتاب المزارعۃوالمساقاۃ(مزارعت اورباغبانی کے احکام) | فتاوئ : 32
-
کتاب الصید(شکارکے احکام) | فتاوئ : 3
-
کتاب الذبائح(جانوروں کے ذبح کرنے کے احکام) | فتاوئ : 8
- کتاب الاضحیۃ والعقیقۃ(قربانی اورعقیقہ کے مسائل) | فتاوئ : 199
-
کتاب القسمۃ(تقسیم کے احکام) | فتاوئ : 5
-
کتاب اللقطۃ واللقيط(گری پڑی چیزيابچےکے متعلق احکام) | فتاوئ : 18
- کتاب الایمان والنذور(قسموں اورمنت کے احکام) | فتاوئ : 154
- کتاب القصاص والحدود والدیۃ | فتاوئ : 63
-
کتاب السیروالجہاد | فتاوئ : 2
- کتاب القضاء | فتاوئ : 19
-
کتاب الوکالۃ | فتاوئ : 43
-
کتاب الغصب | فتاوئ : 3
- کتاب الجنایات | فتاوئ : 34
- کتاب الوقف | فتاوئ : 324
-
کتاب الحظروالاباحۃ(حلال وحرام کے احکام) | فتاوئ : 1193
- کھانے پینے کے احکام
- لباس کے احکام
- حجاب کے احکام
- بالوں کے احکام
- زیب وزینت کے مسائل
- ولیمہ کے مسائل
- ناموں کابیان
- ختنہ کابیان
- حلال وحرام کمائی کے مسائل
- علاج معالجہ اوردواؤں کے احکام
- دم ،تعویذاورذکرواذکارکے مسائل
- سلام اورمصافحہ کے مسائل
- تصاویرکے مسائل
- لہولعب،کھیل کود اورمزاح کے مسائل
- شعروشاعری کے مسائل
- جانورپالنے کے احکام
- دیگرمتفرق مسائل
- صدقات نافلہ
-
کتاب الوصیۃ | فتاوئ : 34
- کتاب الفرائض(میراث کے مسائل) | فتاوئ : 388
-
کتاب الشہادۃ (گواہی کے احکام) | فتاوئ : 18
-
کتاب الماذون | فتاوئ : 1
سوال پوچھیں
اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے
سوال پوچھیں