بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 23/10/2026

دارالافتاء

 

احکام سفر کے سلسلے میں پشاور شہر کے حدود


سوال

مؤدبانہ گزارش ہے کہ آپ حضرات نے فتاوٰی عثمانیہ ج3ص63 میں یہ لکھا ہے کہ پشاور کہ حدود اربعہ C&Wوالوں سے معلوم کیے ہیں جن میں لکھا ہے کہ کوہاٹ کی طرف سے "سپینہ تھانہ "، چارسدہ کی طرف "ناگمان "،جمرودکی طرف "تختہ بیگ"جبکہ نوشہرہ کی آخری حد "ترناب فارم "ہے تو آیا یہ حدود اربعہ ضلعی حدود ہیں یا شہری حدود؟ اگر ضلعی حدود ہوں تو شریعت میں تو قصر نماز پڑھنے کیلئے شہری حدود معتبر ہیں یعنی شہر کے حدود سے نکلنے پر سفر کے احکام متوجہ ہو تے ہیں اور سفر کی انتہاء بھی ان حدود میں داخل ہونے سے ہوگی ۔اب پوچھنا یہ ہے کہ آپ حضرات نے ہو سکتا ہے C&Wوالو ں سے شہر کے حدود کی معلومات کیے ہوں اور انہوں نے ضلعی حدود بتادی ہوں اس مسئلہ کی آپ حضرات پوری تحقیق کر کے ہماری رہنمائی بھی فرمائیں ،کیونکہ ہمارے کوہاٹ کے اکثر لوگ اس مسئلہ کے بارے میں پوچھتے ہیں کہ آیا ہم سفر کی نماز "سپینہ تھانہ "سے نکل کر شروع کریں گے یا شہر سے نکل کر سفر کی نماز پڑھنی ہوگی ؟

جواب

فقہی عبارات کی رو سے مسافر کیلئے سفر کے احکام موضع اقامت  کے حدود سے نکلنے پر متوجہ ہوتے ہیں اور موضع اقامت کے حدود (آبادی اور اس کے مضافات )کی تعیین کا مدار عرف  عام پر ہے لہذا کسی بھی شہر یا بستی کے حدود کے سلسلے میں وہاں کے عرف عام کو اعتبار دیا جائےگا چنانچہ عرف عام میں جو مقا م وخطہ کسی شہر یا بستی کا آخری کناراسمجھا جا تا ہومقیم شخص کے مسافر ہونے کیلئے اس سے نکلنا ضروری ہوگا۔

صورت مسؤلہ کےمطابق دیگر شہروں کی  طرح  پشاور کے حدود کا بھی  ہر زمانےمیں   یکساں ہونا ضروری نہیں  اس لیے کہ شہروں کے حدود اورمضافات   میں کمی بیشی آتی رہتی ہے لہذا کسی شہر یا علاقے کے حدود کی حتمی لکیرکھینچنامشکل ہے کیونکہ موجودہ دور میں شہروں کے حدوداطراف میں نئی کالونیوں ،ہاؤسنگ سوسائیٹوں یا دیگر منصوبوں کی وجہ سے بڑی تیزی سے بڑھ رہے ہیں اس لیے  پشاور شہر کے  حدود کی کوئی حتمی  تعیین  بھی مشکل ہے ۔ یہی وجہ ہے کہ متعلقہ ادارہ C&Wسے جب ہم نے  اس سلسلے میں رہنمائی لی تو انہوں نے بھی ضلع کے حدود تو باقاعدہ دستخط شدہ دستاویز کی صورت میں ہمیں فراہم کیے  لیکن شہر کے حتمی حدود دستخط شدہ دستاویز کی صورت میں دینے سے معذرت کی ۔ نیز یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ بسااوقات کسی شہر کے حدود مفادات کی خاطر طبقہ اشرافیہ کے اثر ورسوخ سے انتظامی حوالے  سے گھٹتے بڑھتے رہتے ہیں فتاوی عثمانیہ ج3ص63 پر پشاور شہر کے جو  حدود لکھے گئے ہیں شایدیہ فتوی جاری ہونے کے وقت  متعلقہ ادارے والوں  نے معروضی حالات کے حوالے سے سوال میں مذکور حدود پشاور شہر کے تحت شمار کیے ہوں اور اسی بنا پر جامعہ کا فتوی  بھی دیا گیا ۔ لیکن اب جامعہ کا فتوی یہ ہے کہ پشاور شہر کے حدود ومضافات  کی تعیین میں  ہر جانب رائج عرف ہی معتبر ہے اور اس کی کوئی حتمی لکیر کھینچنا مشکل ہے ۔واللہ تعالی اعلم ۔

 فإذا قصد مسيرة ثلاثة أيام قصر الصلاة حين تخلف عمران المصر لأنه ما دام فيالمصر فهو ناوي السفر لا مسافر فإذا جاوز عمران المصر صار مسافرا لاقتران النية بعمل السفر۔(المبسوط للسرخسي،كتاب الصلوة،باب صلوة المسافر،ج1ص236)

أن المقيم في ناحية من المصر يكون مقيما في جميع نواحيه وإذا خرج من أهله على قصد السفر لا يصير مسافرا ما لم ينفصل من عمران المصر۔(ايضا،كتاب المضاربة،باب نفقة المضارب،ج22ص64)

قوله ( من خرج من عمارة وضع إقامته ) أراد بالعمارة ما يشمل بيوت الأخبية لأن بها عمارة موضعها قال في الإمداد فيشترط مفارقتها ولو متفرقة۔۔ وأشار إلى أنه يشترط مفارقة ما كان من توابع موضع الإفاقة كربض المصر وهوما حول المدينة من بيوت ومساكن فإنه في حكم المصر ۔۔۔وأما الفناء وهو المكان المعد لمصالح البلد كركض الدواب ودفن الموتى وإلقاء التراب فإن اتصل بالمصر اعتبر مجاوزته وإن انفصل بغلوة أو مزرعة فلا ۔(رد المحتار،كتاب الصلوة،باب صلوة المسافر،ج2ص299)

لا ينكر تغير الأحكام بتغير الأزمان  إن الأحكام التي تتغير بتغير الأزمان هي الأحكام المستندة على العرف والعادة لأنه بتغير الأزمان تتغير احتياجات الناس وبناء على هذا التغير يتبدل أيضا العرف والعادة وبتغير العرف والعادة تتغير الأحكام حسبما أوضحنا آنفا بخلاف الأحكام المستندة على الأدلة الشرعية التي لم تبن على العرف والعادة فإنها لا تتغير .(درر الحكام شرح مجلة الاحكام ،ج1ص43)

أن الشيء الذي يحمل على العرف والعادة يجب أولا أن يكون حمله على العرف الموجود وقت التلفظ لا أن يحمل الشيء الذي وضع قبلا على عرف حدث مؤخرا .(ايضا،ج1ص45)


فتویٰ نمبر : 8755/297/321

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں