بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 25/10/2026

دارالافتاء

 

مسجد کیلئے وقف زمین میں مدرسہ بنانا


سوال

ہمارے گاؤں میں ایک شخص نے ایک جگہ مسجد بنانے کیلئے وقف کردی اس پر کام بھی شروع ہوا اور دیواریں بنائی گئی تاہم کچھ وجوہات کی بنا پر اس جگہ کو مسجد کیلئے نامناسب پاکر گاؤں والوں نے قریب ایک دوسری جگہ مسجد بنائی یہ جگہ ابھی تک ویسی ویران اور کھنڈر ہے دیواروں کے پتھر ایک شخص نے قیمتاً لے لیے اور وہ قیمت اس دوسری مسجد میں لگا دی تقریبا تیس سال کم وبیش سے وہ جگہ ویران ہے ۔اب گاؤں کے لوگ اس جگہ پر مدرسہ بنانا چاہتے ہیں چونکہ واقف وفات پاگئے ہے لہذا اس کے ورثا بھی اس پر راضی ہیں تاہم مسئلہ یہ ہے کہ اس جگہ پر کام کرنے والے مزدور جتنے بھی ہوتے تھے دو،چار،دس وہ سب اس جگہ پر دوران کام باجماعت نماز بھی ادا کرتے تھے ایک آدھ بار باہر سے کسی نے آکر آذان کے ساتھ باجماعت نماز ادا کی تاہم مسقل باجماعت نماز شروع نہیں ہوئی تھی ۔اب سوال یہ ہے کہ(1) کیا اس جگہ پر بنات کے لیے مدرسہ بنانا جائز ہے ؟کیونکہ ابھی تک یہ جگہ ویسی ہی کھنڈر ہے اور آئندہ بھی اس کو مسجد بنانے کےکوئی آثارنظر نہیں آتے اس لیے کہ ایک مسجد پہلے سے بنی ہوئی ہے ۔(2) یا یہ ممکن ہے کہ اس جگہ کو کوئی قیمتاً لے لیں اور وہ قیمت اس دوسری مسجد میں دے کر اس کو مدرسہ بنائے ۔براہ مہربانی رہنمائی فرمائیں ۔

جواب

مسجد شرعی بننے کیلئے تین باتوں کا ہونا ضروری ہیں :(1) وقف کرنے والے شخص نے زمین  باقاعدہ مسجد کیلئے وقف  کی ہو۔(2)موقوفہ زمین کو واقف نے اپنی ملک  یا دوسرے کی  ملک سے  اس طرح علیحدہ  کر دیا ہو  کہ اس کا یا کسی اور کا حق  اس سے متعلق نہ ہو ۔(3)مالک زمین کی اجازت سے  اس  میں  کم ازکم ایک  مرتبہ  نماز  باجماعت ہو چکی ہو ۔اگر یہ تینوں باتیں پائی جائیں  تو مسجد شرعی کے احکام  جاری ہو ں گے اور شرعاً مسجد شرعی کی زمین کو مسجد کے علاوہ مصارف  میں استعمال کرنا جائز نہیں ۔

   صورت مسؤلہ میں اگر واقعتاً  زمین کے مالک نے یہ زمین مسجد کیلئے وقف کی ہو اور حسب بیان مذکورہ مسجد میں مزدوروں نے  مالک زمین کی اجازت سے نماز باجماعت بھی ادا کی ہو تو شرعا یہ زمین مسجد شرعی کے حکم میں ہے لہذا اب اس کو نہ فروخت کیا جاسکتا ہے اور نہ اس  میں اس طرح  مدرسہ تعمیر کرنا جائز ہے کہ جس سے اس کی مسجدیت متاثر ہو،اس لیے کہ مسجد شرعی بننے کے بعد مسجد کی زمین تاقیامت مسجد کے حکم میں رہتی ہے ۔

 من بنى مسجدا لم يزل ملكه عنه حتى يفرزه عن ملكه بطريقة ويأذن بالصلاة أما الإفراز فلأنه لا يخلص لله تعالى إلا به ۔۔وأما الصلاة فلأنه لا بد من التسليم عند أبي حنيفة ومحمد رحمهما الله تعالى هكذا في البحر الرائق التسليم في المسجد أن تصلی فيه جماعة بإذنه وعن أبي حنيفة رحمه الله تعالى فيه روايتان في رواية الحسن عنه يشترط أداء الصلاة فيه بالجماعة بإذنه اثنان فصاعدا كما قال محمد رحمه الله تعالى رواية الحسن كذا في فتاوى قاضي خان۔(الفتاوى الهندية،كتاب الوقف،الباب الحادي العشر،ج2ص408)

مطلب فيما لو خرب المسجد أو غيره  قوله ( ولو خرب ما حوله ) أي ولو مع بقائه عامرا وكذا لو خرب وليس له ما يعمر به وقد استغنى الناس عنه لبناء مسجد آخر  قوله ( عند الإمام والثاني ) فلا يعود ميراثا ولا يجوز نقله ونقل ماله إلى مسجد آخر سواء كانوا يصلون فيه أو لا وهو الفتوى ۔(رد المحتار ،كتاب الوقف ،ج6ص548)

فإذا تم ولزم لا يملك ۔۔۔قوله ( لا يملك ) أي لا يكون مملوكا لصاحبه ولا يملك أي لا يقبل التمليك لغيره بالبيع ونحوه لاستحالة تمليك الخارج عن ملكه ولا يعار ولا يرهن لاقتضائهما الملك ۔(رد المحتار مع الدر المختار،كتاب الوقف ،ج6ص352)


فتویٰ نمبر : 4579/297/328

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں