بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 24/10/2026

دارالافتاء

 

نکاح میں مہر کے علاوہ رقم کا مطالبہ کرنا


سوال

زید نے عائشہ سے نکاح کیا ،نکاح کے دوران عائشہ کے والد صاحب (عمرو) نے زید کے رشتہ داروں کے ساتھ شرط لگائی کہ آپ نے مجھے 40،000روپے لڑکی کے مہر کے علاوہ دینے ہونگے ۔جسے زید کے رشتہ داروں نے بامر مجبوری مان لیا ، اب سوال یہ ہے کہ زید کو یہ پیسے ادا کرنے ہونگے ؟نیز یہ کہ کیا عمر و(عائشہ کے باپ )کے لیےیہ پیسے لینا جائز ہے ؟جو کہ ایک قسم کا اپنی بیٹی کو پیچنے کے عوض لیے گئے ہیں ۔

جواب

شریعت  مطہرہ میں نکاح  صرف طبعی وشخصی ضرورت کی تکمیل ہی نہیں بلکہ ایک عبادت ہے اس لیے اس میں شرعی اصول کی پاسداری نہایت ضروری ہے ،کسی ناجائز رسم ورواج کے تحت اس کو مشکل بنانا احکام شریعت سے متصادم ہونے کی وجہ سے جائز نہیں ۔مثلاً لڑکی کے نکاح کے بدلے اس کے والدین کا لڑکے کے والدین سے مہر کے علاوہ اپنے لیے رقم کا مطالبہ  کرنا ،عموماًایسی صورت  میں لڑکا مجبوراً بادل ناخواستہ یہ رقم ادا کرتا ہے کیونکہ اس کے بغیر کوئی اسے رشتہ نہیں دیتا۔فقہائے کرام نے اسے رشوت قرار دیا ہے چنانچہ اس رقم کو لینے کے بعد بھی یہ رقم لینے والےکی ملکیت میں نہیں آتی بلکہ ایسا مال بدستور دینے  والے کی ملکیت میں رہے گا جو اس کو واپس کرنا لازم ہے ۔تاہم اگر کہیں پر کچھ رقم لڑکی کی بنیادی ضروریات کی خاطر لی جاتی ہو تو ایسی صورت میں یہ رقم لینا درحقیقت مہر کا حصہ شمار ہوگا لہذا اس کی گنجائش ہوگی ۔

صورت مسؤلہ میں عائشہ کے باپ نے اضافی رقم اگر اپنے لیے طلب کی ہو تو زید پر یہ رقم ادا کرنا لازم نہیں ۔

عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ : أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- خَطَبَ النَّاسَ فِى حَجَّةِ الْوَدَاعِ ۔۔۔(وقال)لاَ يَحِلُّ لاِمْرِئٍ مِنْ مَالِ أَخِيهِ إِلاَّ مَا أَعْطَاهُ مِنْ طِيبِ نَفْسٍ ۔۔۔(السنن الكبرى للبیهقي،كتاب الغصب رقم الحديث،11719)

(أخذ أهل المرأة شيئا عند التسليم فللزوج أن يسترده) لأنه رشوة.وقال ابن عابدین تحت(قوله عند التسليم) أي بأن أبى أن يسلمها أخوها أو نحوه حتى يأخذ شيئا، وكذا لو أبى أن يزوجها فللزوج الاسترداد قائما أو هالكا لأنه رشوة بزازية.(ردالمحتار مع الدرالمختار،كتاب النكاح،قبيل مطلب في دعوى الأب أن الجهاز عارية،4/307)

ما هو معروف بين الناس في زماننا من أن البكر لها أشياء زائدة على المهر۔۔۔۔۔۔وأنت خبير بأن هذه المذكورات تعتبر في العرف على وجه اللزوم على أنها من جملة المهر، غير أن المهر منه ما يصرح بكونه مهرا ومنه ما يسكت عنه بناء على أنه معروف لا بد من تسليمه، بدليل أنه عند عدم إرادة تسليمه لا بد من اشتراط نفيه أو تسمية ما يقابله كما مر، فهو بمنزلة المشروط لفظا فلا يصح جعله عدة وتبرعا،(ردالمحتارعلى الدرالمختار،كتاب النكاح،باب المهر،4/272 مطبع:دارالكتب العلمية)

للمراۃ ان تھب مالھا لزوجھا من صداق دخل بھا زوجھا او لم یدخل ولیس لاحد من اولیائھا اب ولا غیرہ الاعتراض۔(فتاوی الھندیۃ ،باب السابع فی المھر ج1ص316)


فتویٰ نمبر : 6209/297/324

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں