بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 22/10/2026

دارالافتاء

 

انسانی بالوں سے وگ (wig)بنانا


سوال

چائنہ کے تاجر انڈیاسےانسانی بالوں کو خریدتے ہیں اورپھر اس سے مختلف قسم کے وگ تیار کرواتے ہیں۔ کیا ایک مسلمان کے لیے جائز ہے کہ وہ چائنی کمپنی کے لیے اجرت پر" وگ"تیار کرے؟

جواب

واضح رہے کہ انسانی اعضاء نہ مال ہیں اور نہ ہی انسان اپنے اعضاء کا مالک ہے اس لیے اپنے اعضاء میں سے کوئی عضو نہ کسی کو فروخت کیا جاسکتاہےاور نہ ہبہ۔ چنانچہ انسانی بال خرید کر اس سے "وگ"تیار کرنا شرعا جائز نہیں صورت مسئولہ میں کسی مسلمان کا بطور اجرت کسی کمپنی کے لیے انسانی بالوں سے "وگ"(wig)بنانا جائز نہیں کیونکہ اس سے اس کا روبار کو فروغ ملے گا اور انسانی بالوں کی خریدوفروخت کا عمل بلا روک ٹوک شروع ہوجائے گا جو کہ شرعا ممنوع ہے ۔

قال الله تعالى:  وَلَا تَعَاوَنُوا عَلَى الْإِثْمِ وَالْعُدْوَانِ  (سورة المائدةآيت2)

( كما بطل بيع صبي لا يعقل ومجنون ) ۔۔۔( وشعر الإنسان ) لكرامة الآدمي ولو كافرا ۔(الدر المختار شرح تنوير الابصار ،كتاب البيوع ،باب البيع الفاسد ج7ص245)

( ولا يجوز على الغناء والنوح والملاهي ) لأن المعصية لا يتصور استحقاقها بالعقدة (بالعقد) فلا يجب عليه الأجر(الأجرة) من غير أن يستحق عليه لأن المبادلة لا تكون إلا عند الاستحقاق وإن أعطاه الأجر وقبضه لا يحل له ويجب عليه رده على صاحبه(البحر الرائق ،كتاب الإجارة ،باب الإجارة الفاسدة ج8ص35)


فتویٰ نمبر : 2802/297/322

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں