بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم
| لاگ ان | 22/10/2026 |
دارالافتاء
یا مرید کے ساتھ وظیفہ پڑھنا
سوال
کیا"یا مرید"کا وظیفہ پڑھنا جائز ہے؟
جواب
شرعی نقطہ نظر سے اللہ تعالی جل جلالہ کے نام (ذاتی ہوں، یا صفاتی )توقیفی ہیں ۔یعنی جو نام اللہ تعالی کے لئے قرآن و حدیث میں استعمال ہوئے ہیں ،انکے علاوہ كوئی نام اللہ تعالی کے لئے استعمال کرنا جائز نہیں اسی طرح کسی کے لئے یہ جائز نہیں کہ وہ اپنی طرف سےکوئی نام یا صفت بنا کر اللہ تعالی کی حمد و ثناء کرے مثلا:اللہ کو جواد کہہ سکتے ہیں ،سخی نہیں،نور کہہ سکتے ہیں،ابیض نہیں ،شافی کہہ سکتے ہیں،طبیب نہیں،کیونکہ یہ دوسری تعبیرات کے الفاظ منقول نہیں ہیں ،اگر چہ انہی الفاظ کے ہم معنی منقول ہیں۔ صورت مسئولہ میں چونکہ لفظ "مرید "اللہ تعالی کے اسمائےحسنی میں سےنہیں ہے لہذاحرف نداء (یا) لگا کر "یامرید" سے وظیفہ پڑھنا مناسب نہیں۔اس کی بجائے اللہ تعالی کے دیگر اسماءحسنیٰ اور مسنون اذکار کے ساتھ اللہ تعالی کو یادكرنا چاہیے۔
قال في المعالم،عند قوله تعالی:﴿وذرواالذين يلحدون في أسمائه﴾الإلحاد في اسمائه تعالی بما لا ينطق به كتاب ولا سنة ۔وقال ابوالقاسم القشيري رحمه الله أسماء الله توجد توقيفا ويراعی فيها الكتاب والسنة والإجماع،كل اسم ورد في هذه الإصول وجب إطلاقه في وصفه تعالی،ومالم يرد فيها لا يجوز إطلاقه في وصفه،وإن صح معناه ۔ (مرقاةالمفاتيح شرح مشكاة المصابيح،كتاب الدعوات،فصل في أسماء الله تعالی،ج:5،ص:71،مكتبه حقانيه)
{ وذروا الذين يلحدون في أسمائه } ۔۔۔ وأخرج ابن أبي حاتم عن الأعمش أنه قرأ يلحدون من" لحد"، وقال تفسيرها : يدخلون فيها ما ليس منها۔ (فتح القدير للإمام محمد الشوكاني ،سورۃ الأعراف /180، ج:2،ص:394،مکتبہ دارالفکر )
تلاش
تلاش
- کتاب العقائد | فتاوئ : 329
-
کتاب الطّہارۃ | فتاوئ : 246
-
کتاب الصلوۃ | فتاوئ : 894
- نمازوں کے اوقات
- اذان واقامت کے احکام
- نمازکاطریقہ اورشرائط وارکان
- نمازکے واجبات
- نمازتوڑنے والے کام
- نمازکومکروہ بنانے والے کام
- سُترہ کے احکام
- امامت اورجماعت کے مسائل
- وترکے احکام
- سُنن اورنوافل
- تراویح
- سجدہ سہوکے احکام
- سجدہ تلاوت کے احکام
- نمازِجمعہ
- نمازِعیدین
- مسافرکی نماز
- مریض اورمعذورکی نماز
- فوت شدہ نمازوں کی قضا
- استسقاء اورکسوف وخسوف کی نماز
- احکامِ میت اورنمازِجنازہ
- باب زلۃ القاری
- ادعیہ
- کتاب الزکوٰۃ | فتاوئ : 455
- کتاب الصوم | فتاوئ : 91
- کتاب الحج | فتاوئ : 112
- کتاب النکاح | فتاوئ : 576
- کتاب الطلاق | فتاوئ : 494
- خلع | فتاوئ : 50
-
ظہار | فتاوئ : 6
-
ایلاء | فتاوئ : 4
-
ثبوتِ نسب | فتاوئ : 7
-
نفقات | فتاوئ : 33
-
حضانت(بچوں کی پرورش کاحق) | فتاوئ : 36
-
عدت کے احکام | فتاوئ : 60
-
کتاب الشرکۃ(شرکت کے احکام) | فتاوئ : 88
- کتاب البیوع(خریدوفروخت) | فتاوئ : 477
-
کتاب الربا(سودکے احکام) | فتاوئ : 102
-
کتاب الکفالۃ(ضمانت،گارنٹی کے احکام) | فتاوئ : 8
-
کتاب المضاربۃ(مضاربت کے احکام) | فتاوئ : 78
-
کتاب القرض والدین | فتاوئ : 82
-
کتاب الودیعۃ والامانۃ(امانت کے احکام) | فتاوئ : 22
-
کتاب الھبۃ(تحفہ کے احکام) | فتاوئ : 177
-
کتاب الاجارۃ(کرایہ داری اورملازمت کے احکام) | فتاوئ : 413
-
کتاب الشفعۃ | فتاوئ : 22
-
کتاب الرھن(گروی کے احکام) | فتاوئ : 8
-
کتاب المزارعۃوالمساقاۃ(مزارعت اورباغبانی کے احکام) | فتاوئ : 32
-
کتاب الصید(شکارکے احکام) | فتاوئ : 3
-
کتاب الذبائح(جانوروں کے ذبح کرنے کے احکام) | فتاوئ : 8
- کتاب الاضحیۃ والعقیقۃ(قربانی اورعقیقہ کے مسائل) | فتاوئ : 199
-
کتاب القسمۃ(تقسیم کے احکام) | فتاوئ : 5
-
کتاب اللقطۃ واللقيط(گری پڑی چیزيابچےکے متعلق احکام) | فتاوئ : 18
- کتاب الایمان والنذور(قسموں اورمنت کے احکام) | فتاوئ : 154
- کتاب القصاص والحدود والدیۃ | فتاوئ : 63
-
کتاب السیروالجہاد | فتاوئ : 2
- کتاب القضاء | فتاوئ : 19
-
کتاب الوکالۃ | فتاوئ : 43
-
کتاب الغصب | فتاوئ : 3
- کتاب الجنایات | فتاوئ : 34
- کتاب الوقف | فتاوئ : 324
-
کتاب الحظروالاباحۃ(حلال وحرام کے احکام) | فتاوئ : 1193
- کھانے پینے کے احکام
- لباس کے احکام
- حجاب کے احکام
- بالوں کے احکام
- زیب وزینت کے مسائل
- ولیمہ کے مسائل
- ناموں کابیان
- ختنہ کابیان
- حلال وحرام کمائی کے مسائل
- علاج معالجہ اوردواؤں کے احکام
- دم ،تعویذاورذکرواذکارکے مسائل
- سلام اورمصافحہ کے مسائل
- تصاویرکے مسائل
- لہولعب،کھیل کود اورمزاح کے مسائل
- شعروشاعری کے مسائل
- جانورپالنے کے احکام
- دیگرمتفرق مسائل
- صدقات نافلہ
-
کتاب الوصیۃ | فتاوئ : 34
- کتاب الفرائض(میراث کے مسائل) | فتاوئ : 388
-
کتاب الشہادۃ (گواہی کے احکام) | فتاوئ : 18
-
کتاب الماذون | فتاوئ : 1
سوال پوچھیں
اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے
سوال پوچھیں