بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 24/10/2026

دارالافتاء

 

باہر ممالک میں کرسمس کے موقع پر ملازمین کو دیے جانے والے تحائف قبول کرنے کا حکم


سوال

1ـ باہر ممالک میں بعض اوقات ادارے کی طرف سے ملازمین کو کرسمس کے موقع پر تحفہ دیا جاتا ہے مثلاً:چاکلیٹ ،جوس وغیرہ۔ کیا ہمارے لیے اس طرح کرسمس کی نسبت سے دیا جانے والے تحفہ لینا جائز ہے؟ اور اگرجائز نہیں تو ایسی صورت میں اگر کوئی تحفہ لے چکا ہے تو ان اشیا کا کیا کرے؟

2ـادارہ کرسمس کے موقع پر ملازمین کو آن لائن خریداری کے لیے کچھ ٹوکن دیتا ہے جن کو استعمال کر کے ملازمین اپنی پسند کی چیزیں خرید سکتے ہیں اگر ان کو استعمال نہ کریں تو ٹوکن بظاہر ضائع ہوں گے،تو ایسی صورت میں مسلمان ملازمین کے لیے اس ٹوکن کو قبول کرنا اور استعمال کرنا جائز ہے کہ نہیں؟     بینوا توجروا

جواب

شرعی نقطہ نظر سے غیر مسلموں سے ہدایا اور تحائف قبول کرنے میں فی نفسہ کوئی حرج نہیں، البتہ اگر ان سے تحفے تحائف قبول کرنے سے غیر مسلموں کی عظمت و محبت دل میں پیدا ہوتی ہو یا تحائف قبول کرنے سے ان کے مذہبی تہوار کی تعظیم مقصود ہو تو پھر ان تحائف کا قبول کرنا شرعاًجائز نہیں ،لیکن اگر مذہبی تہوار کے موقع پر دیے جانے والے تحائف کے قبول کرنے سے نہ تو اس دن تہوار کی تعظیم مقصود ہو  اور نہ ہی اس کی وجہ سے غیر مسلموں کی عظمت و محبت دل میں پیدا ہوتی ہو ،بلکہ معاشرتی طور پر باہمی مروت کے طور پر ایک دوسرے سے تحائف قبول کیے جائیں تو شرعاً اس میں کوئی قباحت نہیں،بلکہ بعض معاشروں میں نفرت مٹانے کے لیے حسن معاشرت کی نشانی سمجھی جاتی ہے جس کا مسلمان زیادہ حقدار ہے چنانچہ معاشرتی طور پر تحائف قبول کرنے یا سیل کے مراعات سے استفادہ کرنے میں کوئی حرج نہیں۔

         صورت مسئولہ کے مطابق باہر ممالک میں کرسمس ڈے کے موقع پر ادارے کی طرف سے ملازمین کو جو تحفے دیے جاتے ہیں یا آن لائن خریداری کے لیے جو ٹوکن دیے جاتے ہیں تو ان کے قبول کرنے اور استعمال کرنے کی شرعاً گنجائش ہے،بشرط یہ کہ تحفہ میں دی جانے والی چیز فی نفسہ حلال ہواور اس کی وجہ سے مسلمان کے دل میں غیر مسلموں کے تہوارکی تعظیم یا محبت پیدا نہ ہو۔

عن أبي برزة الأسلمي، أنه كان له سكان مجوس فكانوا يهدون له في النيروز والمهرجان , فيقول لأهله: ما كان من فاكهة فاقبلوه , وما كان سوى ذلك فردوه۔(المصنف لابن لأبي شيبه،كتاب السير،باب ما قالوا في طعام المجوس وفواكههم،ج17،ص415)

وجئنا إلى صلة المشرك المسلم فقد روى محمد رحمه الله تعالى في السير الكبير أخبارا متعارضة في بعضها أن رسول الله صلى الله عليه وآله وسلم قبل هدايا المشرك وفي بعضها أنه صلى الله عليه وسلم لم يقبل فلا بد من التوفيق ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ومن المشايخ من وفق من وجه آخر فقال لم يقبل من شخص علم أنه لو قبل منه يقل صلابته وعزته في حقه ويلين له بسبب قبول الهدية وقبل من شخص علم أنه لا يقل صلابته وعزته في حقه ولا يلين بسبب قبول الهدية كذا في المحيط ۔(الفتاوى الهندية،كتاب الكراهية،الباب الرابع عشرفي أهل الذمة والأحكام التي تعود إليهم،ج5 ص348 مطبع:بلوچستان بک ڈپو)

ويأتي به المجوس في نيروزهم من الأطعمة إلى الأكابر والسادات من كانت بينهم وبينهم معرفة ذهاب و مجيء فقد قيل إن أخذ ذلك على وجه الموافقة لفرجهم يضر ذلك بدينه وإن أخذه لا على ذلك الوجه لا بأس به والإحترازعنه أولى۔(الفتاوى التا تارخانية،كتاب المرتدین،الفصل الحادي عشر في الخروج إلي النشيدة والذهاب إلى ضيافةالمجوس،ج7 ص348)


فتویٰ نمبر : 4576/297/328

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں