بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 24/10/2026

دارالافتاء

 

اللہ کے صفاتی ناموں کو بغیر لفظ "عبد" کے پکارنا


سوال

اگر کسی کا نام عبد الجبار یا عبدالرحمن وغیرہ ہو تو اس کو پورے نام کے بجائے صرف جبار یا رحمن کے ساتھ پکارنا از روئے شریعت کیسا ہے ؟

جواب

اللہ تعالی کے وہ صفاتی نام جو قرآن وحدیث میں غیر اللہ کے لیے بھی استعمال  ہوئے ہیں اور اللہ تعالی کے لیے بھی مثلا غنی ،رحیم ،رشید وغیرہ تو ایسے صفاتی نام بندوں کے لیے رکھنا جائز ہے اور ان ناموں کے ساتھ عبد لگانا ضروری نہیں لیکن وہ صفاتی نام جو قرآن وحدیث میں اللہ تعالی کے لیے استعمال ہوئے ہیں اور غیر اللہ کے لیے ان کا استعمال ثابت نہیں مثلا رحمن ،غفار ،جباروغیرہ تو اگر ان صفاتی ناموں کے ساتھ نام رکھنا ہو تو ان کے ساتھ لفظ "عبد"ملانا ضروری ہے جیسے عبد الرحمن ،عبد الجبار ،عبد الغفاروغیرہ اور لا علمی یا لاپرواہی کی بنا پر عبد الرحمن کو رحمن ،عبد الجبار کو جبار کہہ کر پکارناجائز نهيں كيونكه اس سے اللہ تعالی کے ناموں کی بے ادبی اور ان صفات میں اللہ تعالی کے ساتھ شرک کا اندیشہ ہے۔ 

أحب الأسماء إلى الله تعالى عبد الله وعبد الرحمن لكن التسمية بغير هذه الأسماء في هذا الزمان أولى لأن العوام يصغرون هذه الأسماء للنداء والتسمية باسم يوجد في كتاب الله تعالى كالعلي والكبير والرشيد والبديع جائزة لأنه من الأسماء المشتركة ويراد في حق العباد غير ما يراد في حق الله تعالى۔(الفتاوى الهندية ،كتاب الكراهية ،الباب الثاني والعشرون في تسمية الأولاد ج5ص418)

( قوله لكن التسمية إلخ ) قال أبو الليث : لا أحب للعجم أن يسموا عبد الرحمن وعبد الرحيم ؛ لأنهم لا يعرفون تفسيره ، ويسمونه بالتصغير، تتارخانية وهذا مشتهر في زماننا ، حيث ينادون من اسمه عبد الرحيم وعبد الكريم أو عبد العزيز مثلا فيقولون : رحيم وكريم وعزيز وإن لم يدر ما يقول ولا قصد له لم يحكم بكفره ومن سمع منه ذلك يحق عليه أن يعلمه ۔(ردالمحتار على الدرالمختار ،كتاب الحظر والإباحة ،باب الإستبراء وغيره ج 9ص 598)


فتویٰ نمبر : 4594/297/328

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں