بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 21/10/2026

دارالافتاء

 

لاک ڈاؤن کے دوران دکانوں کا کرایہ وصول کرنا


سوال

  لاک ڈاؤن  (قرنطین) کے دوران مالک دکان کے لیے دکانوں کا کرایہ لینا شرعاً جائز ہے یا نہیں اس حال میں کہ دکان کھولنے پر پابندی حکومت کی طرف سے ہے،  مالکِ دکان کی طرف سے نہیں، نیز اس دوران مالک اور دکاندار کا عقدِ اجارہ برقرار رہا۔

جواب

  واضح رہے کہ جب عقدِ اجارہ صحیح ہو، فاسد نہ ہو، اور مالک، کرایہ دار کو شیءِ مستاجرہ حوالہ کر کے اس سے فائدہ اٹھانے پر قدرت دیدے، تو کرایہ دار پر کرایہ لازم ہو جاتا ہے، خواہ وہ اس چیز سے فائدہ اٹھائے یا نہ اٹھائے۔ البتہ اگر کوئی ایسا عارض پیش آئے جس کی وجہ سے اس چیز (شیءِ مستاجرہ ) سے فائدہ اٹھانا بالکل ممکن نہ رہے ، جیسے: کرایہ پر لیے ہوئے گھر یا دکان کی چھت گرجائے، وغیرہ، تو اس صورت میں کرایہ ساقط ہو جاتا ہے جب تک گھر یا  دکان  کو دوبارہ قابلِ انتفاع نہ بنایا جائے۔ اور اگر ایسا عارض پیش آئے جس کی وجہ سے شیءِ مستاجرہ سے فائدہ اٹھانے میں خلل اور نقصان واقع ہو جائے، جیسے گھر کی چاردیواری گر جائے تو اس صورت میں کرایہ دار کو عقدِاجارہ فسخ کرنے کا اختیار حاصل ہو جاتا ہے ، اگر کرایہ دار نے عقدِ اجارہ فسخ کر دیا تو ٹھیک ہے، ورنہ اس کے ذمے پوری اجرت لازم ہوگی۔

          صورتِ مسئولہ کے مطابق لاک  ڈاؤن کے دوران اگر دکان کھولنے وغیرہ میں  مالک کی طرف سے کوئی رکاؤٹ نہ ہو ، بلکہ محض حکومتی  پابندی کی وجہ سے کرایہ دار ، دکان نہ کھول سکا ہو، تو چونکہ اس دوران دکان کا قبضہ کرایہ دار کے پاس رہا، نیز اگرچہ ان ایام میں کرایہ دار ، دکان کھول کر خرید و فروخت نہ کر سکا لیکن اس کا سامانِ تجارت وغیرہ اس دکان میں محفوظ رہا، اور فریقین کا عقدِ اجارہ بھی بدستور برقرار رہا، اس لیے مالکِ دکان کے لیے لاک ڈاؤن کے ایام کا کرایہ لینا شرعا   جائز ہے۔ البتہ پوری دنیا کو متاثرکرنے والی وبا  "کورونا"  کی وجہ سے جب عالمی سطح پر   حکومتوں نے کئی ذمہ داریوں اور حقوق میں مواسات اور ہمدردی کا مظاہرہ کر کے  تخفیف سے کام لیا تو ایک مسلمان ایسے اخلاقی کردار اپنانے کا زیادہ لائق ہے۔ اس لیے مالک دکان کو چاہیے کہ کرایہ داروں سے ہمدردی اور آسانی کا معاملہ کرے۔

عن جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا: أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: «رَحِمَ اللَّهُ رَجُلًا سَمْحًا إِذَا بَاعَ، وَإِذَا اشْتَرَى، وَإِذَا اقْتَضَى» (صحيح البخاري، بَابُ السُّهُولَةِ وَالسَّمَاحَةِ فِي الشِّرَاءِ وَالبَيْعِ، وَمَنْ طَلَبَ حَقًّا فَلْيَطْلُبْهُ فِي عَفَافٍ،ج:2 ، :ص (551:

وفيه الحض على السماحة في المعاملة واستعمال معالي الأخلاق وترك المشاحة والحض على ترك التضييق على الناس في المطالبة وأخذ العفو منهم ۔ (فتح الباري شرح صحيح البخاري، باب السهولة والسماحة في الشراء والبيع، ومن طلب حقا فليطلبه في عفاف،ج: 5، ص: 28)

تلزم الأجرة أيضا في الإجارة الصحيحة بالإقتدار على استيفاء المنفعة، مثلا: لو استأجر أحد دارا بإجارة صحيحة فبعد قبضها يلزمه إعطاء الأجرة وإن لم يسكنها۔ (شرح المجلة، خالد الأتاسی، کتاب الإجارات، مادة: 470، ج: 2، ص: (554


فتویٰ نمبر : 2814/297/322

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں