بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 22/10/2026

دارالافتاء

 

شوہر بیوی کا ہم پلہ اور برابر ہونا


سوال

(1)عاقلہ بالغہ ولی کی اجازت کے بغیر اگر نکاح کرے تو نکاح کرتے وقت شوہر میں چند اوصاف کا ہونا ضروری ہیں یا  شوہر کے علاوہ خاندان میں بھی ان اوصاف کا ہونا ضروری ہیں ؟

(2)اگر شوہر اتنا قرض لے کہ جس سے مہر اور نفقہ  ادا کرنے پر قادر ہو جائے تو یہ کفائت کے لیے کافی ہے یا نہیں ؟

(3)مہر مثل سے کم مہر مقرر کرنے سے کفائت باقی رہتی ہے یا نہیں ؟

جواب

فقہائے کرام نے نکاح کے سلسلے میں مرد اور عورت کے مابین کفائت کے سلسلے میں اسلام ،نسب ،دین داری ،پیشہ ،مال داری ،اور حریت کو اعتبار دیا ہے یعنی مرد ان امور میں عورت سے بہتر یا اس کے ہم پلہ ہو اس سے کم نہ ہو ان امور میں سے نسب اور پیشہ کاتعلق خاندان سے ہے یعنی شوہر کا خاندان نسب اور پیشہ کے اعتبار سے لڑکی کے خاندان والوں کے برابر یا اس سے بہتر ہو اسی طرح اسلام میں بھی والد کا اعتبار ہوگا چنانچہ جو شخص خود مسلمان ہو لیکن اس کا والد مسلمان نہ ہو وہ اس لڑکی کا کفو نہیں بن سکتا جس کا والد  مسلمان ہو اور جس شخص کا والد بھی مسلمان ہو لیکن دادا مسلمان نہ ہو وہ اس لڑکی کا کفو نہیں جس کا والد اور دادادونوں مسلمان ہوں اسی طرح حریت یعنی آزادی میں بھی باپ ،دادا تک کے سلسلے کا اعتبار ہوگا اس کے علاوہ دین داری اور مال داری کا تعلق صرف شوہر کے ساتھ ہے شوہر کے خاندان کے ساتھ اس کا تعلق نہیں ۔

 (2)کفاءت کے شرائط میں سے ایک شرط یہ بھی ہے کہ وہ مرد اتنا مال دار ہو کہ بیوی کے مہر معجل اور نفقہ کے ادائیگی پر قادر ہو لہذا اگر شوہر کسی سے قرض لے کر مہر اور نفقہ پر قادر ہوجائے تو شرعا اس سے کفائت کی شرط پوری ہوجائے گی۔ایسی صورت میں اگر کفائت کی دیگر شرائط موجود ہو ں  تو اس مرد کو عورت کا کفو شمار کیا جائے گا ۔

(3)مہر شرعا کفائت کے شرائط میں سے نہیں البتہ اگر کوئی عورت ولی کی اجازت کے بغیر مہر مثل سے کم مہر پر نکاح کرلے تو ایسی صورت میں اولیاء کواعتراض کا حق  حاصل ہےیہاں تک  کہ شوہر مہر مثل کی مقدار پوری کردےیا ولی بذریعہ قاضی اس نکاح کو فسخ کردے۔

  ونظم العلامة الحموي ما تعتبر فيه الكفاءة فقال : إن الكفاءة في النكاح تكون في ست لها بيت بديع قد ضبط نسب وإسلام كذلك حرفة حرية وديانة مال فقط۔(ردالمحتار على الدر المختار،كتاب النكاح ،باب الكفاءة  )

أما في العجم فتعتبر ( حرية وإسلاما ) فمسلم بنفسه أو معتق غير كفء لمن أبوها مسلم أو حر أو معتق وأمها حرة الأصل ومن أبوه مسلم أو حر غير كفء لذات أبوين ( وأبوان فيهما كالآباء ) لتمام النسب بالجد۔( تنوير الأبصارمع الدرالمختار،كتاب النكاح باب الكفاءةج4ص211)

ومنها الكفاءة في المال وهو أن يكون مالكا للمهر والنفقة وهو المعتبر في ظاهر الرواية۔(الفتاوى الهندية ،كتاب النكاح الباب الخامس في الأكفاء ج 1ص357)

( قوله بأن يقدر على المعجل إلخ ) أي على ما تعارفوا تعجيله من المهر ، وإن كان كله حالا فتح فلا تشترط القدرة على الكل ، ولا أن يساويها في الغنى في ظاهر الرواية وهو الصحيح زيلعي ، ولو صبيا فهو غني بغنى أبيه أو أمه أو جده كما يأتي وشمل ما لو كان عليه دين بقدر المهر ، فإنه كفء لأن له أن يقضي أي الدينين شاء كما في الولوالجية۔(رد المحتار على الدر المختار،كتاب النكاح باب الكفاءة ج4،ص 214)۔

ولو تزوجت المرأة ونقصت من مهر مثلهافللولي الاعتراض عليها حتى يتم لها مهرها أو يفارقها۔(الفتاوى الهندية كتاب النكاح الباب الخامس في الأكفاء ج 1ص359)


فتویٰ نمبر : 6206/297/324

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں