بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 24/10/2026

دارالافتاء

 

نامعلوم فوت شدہ نمازوں کی قضا کا طریقہ کار


سوال

 ایک شخص سے کئی سالوں سےنمازیں قضا ہوئی ہیں ان فوت شدہ  نمازوں  کی تعداد اسے یاد نہیں ۔تو ان کی قضا  کا طریقہ کار کیا ہے؟

جواب

فرض نماز جب کسی سے فوت ہوجائے خواہ قصداً فوت ہوئی ہو یا بھول کر،بہر حال اس کی قضا لازم ہے ۔ اگر کسی کو اپنی فوت شدہ نمازوں کی صحیح تعداد معلوم ہو تو اس تعداد کے مطابق نمازوں کی قضا پڑھنا واجب ہے ۔تاہم صورتِ مسئولہ کے مطابق اگر کسی کو اپنی فوت شدہ  نمازوں کی صحیح تعداد  معلوم نہ ہوتو اپنےسوچ کے بعد غالب گمان کے مطابق ان کی ایک تعداد متعین کردے اور پھر اسی کے حساب سے ان کی قضا کرتارہے حتی کہ دل مطمئن  ہوکر  یہ گواہی دے کہ اب کوئی فوت شدہ نماز ذمہ  پر باقی نہیں ہے۔

ومن لا يدري كمية الفوائت يعمل بأكبر رأيه،فان لم يكن له رأي يقضى حتى يتيقن أنه لم يبق عليه شيء. (حاشية الطحطاوي على مراقي الفلاح ، كتاب الصلاة ، باب قضاء الفوائت ، ج1 ص 468)


فتویٰ نمبر : 8757/297/321

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں