بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 11/08/2026

دارالافتاء

 

زرعی ترقیاتی بینک میں ملازمت کا حکم


سوال

میرے والد صاحب زرعی ترقیاتی بینک میں ملازم ہیں ، اس بینک کی تنخواہ لینا جائز ہے یا نہیں؟ جواز و عدم جواز کی صورت بیان کریں؟

جواب

واضح رہے  کہ کنونشنل بینکوں میں  عموما سودی معاملات ہوتے رہتے ہیں  اور دین اسلام میں سود  کا    حرام ہونا کسی پر مخفی نہیں سود کھانا اور کھلانا تو درکنار سود ی معاملات لکھنے والے پر بھی لعنت کی گئی ہےاس لئے سودی بینک کی وہ ملازمتیں جن میں براہ راست سودی معاملات میں تعاون کرنا پڑتا ہو وہ ملازمت اختیار کرنا شرعا جائز نہیں تاہم بینک میں بعض شعبے ایسے بھی ہیں جن میں براہ راست سودی معاملات میں کوئی تعاون نہیں ہوتا،مثلا:بینک میں چوکیداری،بینک کی گاڑی  کی ڈرائیوری کرنا وغیرہ،  ان کی ملازمت کرنے کی گنجائش پائی جاتی ہے علاوہ ازیں جن بینکوں نے اسلامی بینکاری شروع کی ہے اگر ان کے قواعد و ضوابط شریعت کے مطابق  ہوں اور ان پر عمل کیا جاتا ہواور اس کی نگرانی بااعتمادسپر وائزری کمیٹی کرتی ہو تو ایسے بنک میں  ملازمت کرنا جائز ہے۔

  زرعی ترقیاتی بینک  میں کنونشنل(سودی) اور اسلامی بینکاری دونوں موجود ہیں، چنانچہ اس بینک کی کنونشنل برانچ میں ایسے امور کی ملازمت کرناجن میں سودی معاملات میں تعاون کرنا پڑے،  جائز نہیں  لیکن اگر کوئی ایسی ملازمت ہو  جس میں سود سے متعلق کوئی کام نہ کرنا پڑے(جیسا کہ اوپر ذکر ہوا)  تو اس کی گنجائش پائی جاتی ہے ،  ایسے ہی اسی بینک کی اسلامی برانچ اگر  اسلامی قواعد و ضوابط کی پابندی کرتی ہو اور اس کی نگرانی بااعتماد علماء کر رہے ہوں تو اس میں ملازمت کرنا جائز ہے۔

عن جابر قال:لعن رسول الله صلى الله عليه وسلم آكل الربا وموكله وكاتبه وشاهديه وقال هم سواء۔ (صحيح مسلم،کتاب البيوع،باب الربوا، ج2، ص28)

"الأمور بمقاصدها"يعني أن الحكم الذي يترتب على أمر يكون على مقتضى ما هو المقصود من ذلك الأمر۔ (شرح المجلةلخالد الأتاسي،المقالة الثانية، المادة:2،ج1،ص13)


فتویٰ نمبر : 2797/297/322

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں