بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم
| لاگ ان | 24/08/2026 |
دارالافتاء
سوشل میڈیا پر تصاویر شائع کرنے ،لائک اور کمنٹ کرنے کاحکم
سوال
-
جدید آلات( موبائل،کیمرہ وغیرہ) کے ذریعے کھینچی گئی تصاویر بغیر ضرورت کے فیسبک( Facebook )و غیرہ پر شائع کرنا کیسا ہے؟
-
اس طرح کی تصاویر کو پسند( Like )کرنا یا اس پر تائیدی تعلیق(comment )کرنے کا کیا حکم ہے؟
جواب
سکرین پر ظاہر ہونے والی ڈیجیٹل آلات کے ذریعے لی گئی تصویر بھی تصویر ہی کی ایک جدید قسم ہے یہی وجہ ہے کہ عرف میں بھی اس کو تصویر کہا جاتا ہے لہذا ڈیجیٹل تصویر بھی تصویر ہی کے حکم کو شامل ہے ، اس لئے بلا ضرورت تصویر/ ویڈیو بنانا جائز نہیں تاہم کسی واقعی ضرورت (مثلا: قومی شناختی کارڈ، پاسپورٹ یا نوکری وغیرہ ) کے پیش نظر گنجائش پائی جاتی ہے۔
(1،2)صورت مسئولہ میں چونکہ ڈیجیٹل آلات (موبائل، کیمرہ وغیرہ) کے ذریعے کھینچی گئی تصاویر/ویڈیو تصویر ہی کے زمرے میں داخل ہیں لہذابلا ضرورت تصویر / ویڈیو بنانا اور سوشل میڈیا پر شائع کرنا جائز نہیں اور اس طرح کی بلا ضرورت نشر کی گئیں تصاویر کو پسند کرنا یا اس پر تائیدی تعلیقات(comments) کرنا معصیت پر داد دینے اور گناہ کے کام میں تعاون کرنے کے مترادف ہےچنانچہ ہر مسلمان کے لئے اس سے احتراز کرنا لازم ہے۔
قال الله تعالى: وَلَا تَعَاوَنُوا عَلَى الْإِثْمِ وَالْعُدْوَانِ۔ (المائدة: 2)
عن عبد الله بن مسعود يقول قال رسول الله صلى الله عليه وسلم : أشد الناس عذابا يوم القيامة المصورون۔ (صحيح مسلم،كتاب اللباس،باب تحريم صورة الحيوان،ج2،ص201)
وظاهر كلام النووي في شرح مسلم الإجماع على تحريم تصوير الحيوان وقال وسواء صنعه لما يمتهن أو لغيره فصنعته حرام بكل حال لأن فيه مضاهاة لخلق الله تعالى۔ (رد المحتار على الدر المختار،باب ما يفسد الصلوة و مايكره فيها،ج2،ص416)
الضرورات تبيح المحظورات۔ (شرح المجلة لسليم رستم باز،المادة:21،ص:29)
تلاش
تلاش
- کتاب العقائد | فتاوئ : 314
-
کتاب الطّہارۃ | فتاوئ : 234
-
کتاب الصلوۃ | فتاوئ : 857
- نمازوں کے اوقات
- اذان واقامت کے احکام
- نمازکاطریقہ اورشرائط وارکان
- نمازکے واجبات
- نمازتوڑنے والے کام
- نمازکومکروہ بنانے والے کام
- سُترہ کے احکام
- امامت اورجماعت کے مسائل
- وترکے احکام
- سُنن اورنوافل
- تراویح
- سجدہ سہوکے احکام
- سجدہ تلاوت کے احکام
- نمازِجمعہ
- نمازِعیدین
- مسافرکی نماز
- مریض اورمعذورکی نماز
- فوت شدہ نمازوں کی قضا
- استسقاء اورکسوف وخسوف کی نماز
- احکامِ میت اورنمازِجنازہ
- باب زلۃ القاری
- ادعیہ
- کتاب الزکوٰۃ | فتاوئ : 434
- کتاب الصوم | فتاوئ : 90
- کتاب الحج | فتاوئ : 111
- کتاب النکاح | فتاوئ : 551
- کتاب الطلاق | فتاوئ : 475
- خلع | فتاوئ : 48
-
ظہار | فتاوئ : 6
-
ایلاء | فتاوئ : 4
-
ثبوتِ نسب | فتاوئ : 6
-
نفقات | فتاوئ : 33
-
حضانت(بچوں کی پرورش کاحق) | فتاوئ : 36
-
عدت کے احکام | فتاوئ : 58
-
کتاب الشرکۃ(شرکت کے احکام) | فتاوئ : 86
- کتاب البیوع(خریدوفروخت) | فتاوئ : 461
-
کتاب الربا(سودکے احکام) | فتاوئ : 98
-
کتاب الکفالۃ(ضمانت،گارنٹی کے احکام) | فتاوئ : 8
-
کتاب المضاربۃ(مضاربت کے احکام) | فتاوئ : 75
-
کتاب القرض والدین | فتاوئ : 75
-
کتاب الودیعۃ والامانۃ(امانت کے احکام) | فتاوئ : 21
-
کتاب الھبۃ(تحفہ کے احکام) | فتاوئ : 171
-
کتاب الاجارۃ(کرایہ داری اورملازمت کے احکام) | فتاوئ : 385
-
کتاب الشفعۃ | فتاوئ : 21
-
کتاب الرھن(گروی کے احکام) | فتاوئ : 6
-
کتاب المزارعۃوالمساقاۃ(مزارعت اورباغبانی کے احکام) | فتاوئ : 31
-
کتاب الصید(شکارکے احکام) | فتاوئ : 3
-
کتاب الذبائح(جانوروں کے ذبح کرنے کے احکام) | فتاوئ : 7
- کتاب الاضحیۃ والعقیقۃ(قربانی اورعقیقہ کے مسائل) | فتاوئ : 197
-
کتاب القسمۃ(تقسیم کے احکام) | فتاوئ : 5
-
کتاب اللقطۃ واللقيط(گری پڑی چیزيابچےکے متعلق احکام) | فتاوئ : 18
- کتاب الایمان والنذور(قسموں اورمنت کے احکام) | فتاوئ : 146
- کتاب القصاص والحدود والدیۃ | فتاوئ : 58
-
کتاب السیروالجہاد | فتاوئ : 2
- کتاب القضاء | فتاوئ : 19
-
کتاب الوکالۃ | فتاوئ : 40
-
کتاب الغصب | فتاوئ : 3
- کتاب الجنایات | فتاوئ : 34
- کتاب الوقف | فتاوئ : 316
-
کتاب الحظروالاباحۃ(حلال وحرام کے احکام) | فتاوئ : 1155
- کھانے پینے کے احکام
- لباس کے احکام
- حجاب کے احکام
- بالوں کے احکام
- زیب وزینت کے مسائل
- ولیمہ کے مسائل
- ناموں کابیان
- ختنہ کابیان
- حلال وحرام کمائی کے مسائل
- علاج معالجہ اوردواؤں کے احکام
- دم ،تعویذاورذکرواذکارکے مسائل
- سلام اورمصافحہ کے مسائل
- تصاویرکے مسائل
- لہولعب،کھیل کود اورمزاح کے مسائل
- شعروشاعری کے مسائل
- جانورپالنے کے احکام
- دیگرمتفرق مسائل
- صدقات نافلہ
-
کتاب الوصیۃ | فتاوئ : 32
- کتاب الفرائض(میراث کے مسائل) | فتاوئ : 374
-
کتاب الشہادۃ (گواہی کے احکام) | فتاوئ : 18
-
کتاب الماذون | فتاوئ : 1
سوال پوچھیں
اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے
سوال پوچھیں