بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 24/10/2026

دارالافتاء

 

"مارکیٹ سے کھاتہ بنام" کی صورت میں عشر کا حکم


سوال

 ہمارے علاقے میں انگوراور سیب کےباغات ہیں ان کا عشر لوگ سارا  مال مارکیٹ میں فروخت کرنے کے بعد اداکرتے ہیں۔ کبھی کبھی مارکیٹ سے کھاتہ بنام ہوتاہے تو اس صورت میں عشر اداکرنا ضروری ہے یا نہیں؟

جواب

 شریعت مطہرہ میں وجوبِ عشر  کاتعلق پیداوار نکلنے کے ساتھ  ہے ۔اگر پیداوار نکلا ہے تو عشرکی ادائیگی اس سے واجب ہوگا۔ تاہم اگر پیداوار فروخت کردیاہے تو اس کی قیمت سے ادا کرناواجب ہوگا۔

لہذا صورتِ مسئولہ میں اگر زمیندار نے انگور/سیب  کاٹنے کے بعد اس سے عشر ادا نہ کیا ہو تو مارکیٹ میں   کھاتہ بنام یعنی ادھارفروخت کرنے  کی صورت میں  اس کی قیمت میں سے عشر (دسواں حصہ )اداکرنا واجب ہوگا۔

 وذهب الجمهور إلى أن الأمر بمجرده لا يقتضي فورًا ولا تراخيًا؛ لأن الأمر نفسه يدل على مجرد طلب الفعل، ومتى أتى به المكلف عدَّ ممتثلًا سواء كان إتيانه له فورًا أم متراخيًا.(الوجيز في اصول الفقه ، دلالة الامر علي الفور او التراخي ،ج2 ص25)

و لو باع العنب أو عصره وجب عليه عشره لأنه باع مالا وجب فيه العشر فيضمن للفقراء حقهم، كما لو باع النصاب بعد الحول، جامع الجوامع:صاحب العنب  تارة يبيع عنبا وتارة زبيبا وتارة عصيرا بأقل أو أكثر يؤخذ العشر من الثمن إذا لم يكن حابى فاحشا، رطبة قطعها كل أربعين يوما يؤخذ كلما قطعت.(الفتاوى التاتارخانية ، كتاب العشر ، الفصل الثالث :فيمن يجب عليه العشر و فيمن لا يجب ،ج 3 ص 284)


فتویٰ نمبر : 8763/297/321

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں