بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 25/10/2026

دارالافتاء

 

غیر مسلم ملک کے مسلمان باشندہ کے لیے وہاں کی فوج یا پولیس میں بھرتی ہونے کا حکم


سوال

غیر مسلم ملک کے مسلمان باشندہ کےلئےوہاں کی فوج یاپولیس میں بھرتی ہونے کاحکم سوال:ایک غیر مسلم ملک کے مسلمان باشندہ کے لئے وہاں کی فوج یا پولیس میں بھرتی ہونا شرعاًجائز ہے یانہیں؟نیزاگرمسلمان فوج کے خلاف لڑتےہوئےوہی مسلمان فوجی مرجائےتو کیا اسے شہید کہاجائےگا؟ 

جواب

واضح رہے کہ اگر کوئی مسلمان غیرمسلم ملک کا باشندہ ہو اور اس کو وہاں کی شہریت اور نیشنلٹی حاصل ہو ،تواس پر حکومت کی طرف سے وضع کردہ قوانین لاگو ہوں گے،جس طرح کہ یہ قوانین وہاں کے غیر مسلم باشندوں پر لاگوہوتے ہیں،نیزاس کو بھی وہاں کے غیر مسلم باشندوں کی طرح حقوق اور سہولتیں حاصل ہوں گی۔چنانچہ جس طرح وہاں کے غیر مسلم باشندوں کو اپنے ملک کے استحکام ،آزادی ،سرحدات کی حفاظت اورملک کی دفاع کی خاطر وہاں کی فوج میں بھرتی ہونے کاحق حاصل ہے ،اسی طرح وہاں کے مسلمان باشندوں کے لئے بھی اندرونی اور بیرونی خطرات سے محفوظ رہنے اور ملک کی دفاع کی خاطر وہاں کی فوج یاپولیس میں بھرتی ہونے اورغیرمسلموں کے ساتھ ملازمت کرنے کی گنجائش ہے۔تاہم متعلقہ ممالک کی ذمہ داری ہے کہ وہ کسی کو ایسے کام پر مجبورنہ کریں جو کسی کے مذہب کے نصوص سے صراحۃً متصادم ہو،یا ایسے اقدام پر مجبور نہ کریں جس سےاس کی مذہبی اقدار سے تصادم پیدا ہو۔

لہٰذاصورت مسؤلہ میں غیر مسلم ملک کے مسلمان باشندہ کے لئے وہاں کی فوج یا پولیس میں بھرتی ہونے کی گنجائش ہے۔اور شہادت کامعاملہ زیادہ تر دارالاسلام یادارالمسلمین کے احکام میں سے ہے ،جہاں دارالکفار یاغیر مسلم ممالک کے حوالہ سےایسی چیزوں میں یکسانیت ضروری نہیں۔

 حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ حَفْصٍ، حَدَّثَنَا أَبِي، حَدَّثَنَا الأَعْمَشُ، عَنْ مُسْلِمٍ، عَنْ مَسْرُوقٍ، حَدَّثَنَا خَبَّابٌ، قَالَ: كُنْتُ رَجُلًا قَيْنًا، فَعَمِلْتُ لِلْعَاصِ بْنِ وَائِلٍ، فَاجْتَمَعَ لِي عِنْدَهُ، فَأَتَيْتُهُ أَتَقَاضَاهُ، فَقَالَ: لاَ وَاللَّهِ لاَ أَقْضِيكَ حَتَّى تَكْفُرَ بِمُحَمَّدٍ، فَقُلْتُ۔الخ(الصحیح للبخاری،کتاب الاجارۃ،باب:ھل یؤاجرالرجل نفسہ من مشرک فی ارض الحرب،ج :2ص:600مکتبہ:الطاف اینڈ سنز کراتشی)

وَقَالَ الْمُهَلَّبُ كَرِهَ أَهْلُ الْعِلْمِ ذَلِكَ إِلَّا لِضَرُورَةٍ بِشَرْطَيْنِ أَحَدُهُمَا أَنْ يَكُونَ عَمَلُهُ فِيمَا يَحِلُّ لِلْمُسْلِمِ فِعْلُهُ وَالْآخَرُ أَنْ لَا يُعِينَهُ عَلَى مَا يَعُودُ ضَرَرُهُ عَلَى الْمُسْلِمِينَ۔(فتح الباری،لابن حجرالعسقلانی کتاب الاجارۃ،باب:ھل یؤاجرالرجل نفسہ من مشرک فی ارض الحرب،ج:5 ص:213مکتبہ دارالفکر)

المسلم إذاآجرنفسه من الكافر ليخدمه جازويكره،قال الفضلي:لايجوزفي الخدمة وما فيه إضلال بخلاف الزّراعة والسقي.(خلاصة الفتاوى،كتاب الإجارات، الفصل العاشر في الحظروالإباحة،ج:3ص:139،مكتبه رشيديه)


فتویٰ نمبر : 2799/297/322

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں