بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 21/10/2026

دارالافتاء

 

EOBI پنشن لینے کا حکم


سوال

بندہ ایک بڑی پرائیویٹ کمپنی میں ملازم تھا۔ چند سال پہلے ریٹائرڈ ہوگیا۔ پرائیویٹ کمپنیز پر حکومت کی طرف سے لازم ہے کہ وہ اپنے ملازم کو (EOBI ) کے ساتھ منسلک کرے اور ہر ملازم کی تنخواہ سے کٹوتی کر کے ہر مہنہہ ایک مخصوص رقم (EOBI) کو دیتی ہے۔ جس کے نتیجے میں ریٹائرمنٹ کے بعد( EOBI) کا ادارہ ملازم کو پنشن دیتی ہے اور سالانہ بجٹ میں حکومت اس پنشن میں اضافہ بھی کرتی ہے۔ مذکورہ ادارہ ملازم کو پنشن ساٹھ سالہ پر جاری کرتی ہے البتہ اگر ملازم ساٹھ سال سے پہلے ریٹائر ہوجائے اور مذکورہ ادارہ سے پنشن جاری کرنے کی درخواست دائر کر لے تو یہ ادارہ ساٹھ سالہ پر جاری کردہ پنشن سے کم پنشن جاری کرتا ہے۔ مذکورہ بالا صورت حال کے تناظر میں اب میرا مسئلہ یہ ہے کہ میں کمپنی سے پچپن سالہ بنیاد پر ریٹائرڈ ہوا اور یہ معلوم ہونے پر کہ کمپنی کا چونکہ(EOBI) کے ساتھ معاہدہ ہے کہ وہ مجھے سٹھ سالہ پر پنشن جاری کرے گا میں نے ساٹھ سال پورے ہونے کا انتظار کیے بغیر پچپن سال ہی میں مذکورہ ادارے سے اجراء پنشن کی درخواست کی اور مجھے پنشن جاری ہوا ۔ لیکن ساٹھ سالہ ہونے پر ملنے والاپنشن میرے جیسے ملازمین کے لیے تقریباً 8500 روپے ہیں جبکہ میرے قبل ازوقت درخواست کی وجہ سے 7500 روپے ملتے ہیں میں نے سنا ہے کہ (EOBI) سودی معاملات بھی کرتا ہے۔ ان تمام تفصیلات کو دیکھتے ہوئے اب آپ میری شرعی راہنمائی فرمائیں کہ میرے لیے یہ پنشن لینا جائز ہے کہ نہیں ؟

جواب

(EOBI) پنشن اور بڑھاپے کی انشورنس کے لیے حکومتِ پاکستان کی طرف سے قائم کردہ فنڈ کا ایک ادارہ ہے جو ملازمین  یا ان کے ورثا ء کو  سروس کی مدت کے  موافق  پنشن اور دیگر منفعت جاری کرتا ہے ۔ کمپنیاں ملازمین کی تنخواہ میں سے کچھ پیسے کاٹ کر  اور اپنی طرف سے بھی کچھ رقم اس میں ڈال کر (EOBI) فنڈ میں جمع  کرتی ہیں اور اس رقم  کو سودی سرمایہ کاری میں بھی استعمال کیا جاتا ہے ۔

صورت مسئولہ کے مطابق اگر واقعتاً سائل پر کمپنی کی طرف سے تنخواہ میں یہ کٹوتی لازم ہوئی تھی اور سائل کو اس میں کسی قسم کا کوئی اختیار نہ تھا  تو اس صورت میں (EOBI) کی طرف سے ملنے والی پنشن لینا جائز ہوگا۔

ثم الأجرة تستحق بأحد معان ثلاثة إما بشرط التعجيل أو بالتعجيل أو باستيفاء المعقود عليه ۔(الفتاوي الهندية:  ج 4 ص 413)


فتویٰ نمبر : 4568/297/328

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں