بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 22/10/2026

دارالافتاء

 

بیٹے کا باپ کی زکوۃ کی رقم اپنی بہن کو دینا


سوال

ایک شخص پر زکوۃ یا صدقہ فطر واجب ہے اور اس کی جگہ پر اس کا بیٹا ادائیگی کررہاہے ۔تو کیا یہ زکوۃ یا صدقہ فطر اس کا بیٹا اپنی بہن (جو اس شخص کی بیٹی ہے جس پر زکوۃ واجب ہے)کو دے سکتاہے یا نہیں ؟

جواب

شرعی نقطہ نظر سےجس شخص پر زکوۃ واجب ہو وہ اپنے اصول (آباواجداد)اورفروع ( اولاداور ان کی اولاد)کوزکوۃ نہیں دے سکتا۔صورت مسئولہ میں  جب  بیٹا،باپ  پرواجب شدہ  زکوۃ اس کی جگہ اداکررہاہو تووہ اپنی بہن کو نہیں دے سکتا،کیونکہ وہ اس کےباپ کےفروع میں سے ہےاور یہ زکوۃ باپ ہی کی طرف سے ہے،بیٹا صرف اس کی طرف سے ادائیگی میں نمائندہ ہے۔

وَلَا يَدْفَعُ إلَى وَالِدِهِ وَإِنْ عَلَا وَلَا إلَى وَلَدِهِ وَإِنْ سَفَلَ(بدائع الصنائع،كتاب الزكوة،فصل في ركن الزكوة،ج2ص456)

(صدقة الفطر كالزكوة فى المصارف)وفي كل حال.(الفتاوى الهندية،باب صدقة الفطر،ج1ص194)


فتویٰ نمبر : 8751/297/321

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں