بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 26/10/2026

دارالافتاء

 

سپلائی فراہم کرنے پر گاڑی والے کے ساتھ منافع میں شریک ہونا


سوال

زید کے پاس دبئی میں ایک ذاتی گاڑی (ٹرک) ہے ، بکر نے زید کو کہا کہ میں آپ کو ٹرپ(سامان کی سپلائی) دونگا ، مہینہ میں آپ کو جتنا نفع ہوگا وہ آدھا آدھا ہوگا اور مہینہ میں پٹرول،ڈیزل کا خرچہ ، اس کے علاوہ گاڑی میں اگر کوئی چھوٹا موٹا کام ہوگا تو اس میں بھی میں آپ کے ساتھ آدھا خرچہ بر داشت کرونگا اور تیسری بات یہ کہ مہینہ کے اختتام پرآپ کے جتنے ٹرپس ہونگے ان کے پیسے بھی میں آپ کو دونگا چاہے کمپنی والے مجھے پیسے بعد میں دیں(کیونکہ کبھی کبھی کمپنی والے بکر کو دو مہینے بعد وہ پیسے دیتے ہیں)۔ زید اور بکر کا آپس میں یہ معاملہ درست ہے یا نہیں وضاحت فرمائیں؟ اگر درست نہیں تو اس میں صحیح صورت کیا ہو سکتی ہے؟

جواب

شرکت کے لئے  ضروری ہے کہ جانبین سے نقد مال ہو یا ایک طرف سے مال اور دوسری طرف سے عمل ہو جوکہ مضاربت کہلاتا ہے یا دونوں کسی عمل میں باہم شریک ہوں اور اس کی اجرت آپس میں تقسیم کریں ، بغیر سرمایہ اور محنت کے خواہ مخواہ کسی کی مزدوری میں شریک ہونا شرعاً جائز نہیں۔

صورت مسئولہ میں بکر کا کمپنی سے ٹرپس لے کر زید کو دینا شرعاً اجارہ کا عقدہے جس میں زید اجیر اور بکر مستاجر ہے اور شرعاً  اجیر اپنا کام مکمل کرنے پر اجرت کا مستحق ٹھہرتا ہے   لہذا جب زید بکر کا ٹرپ پہنچادے تو وہ اجرت کا مستحق ہوگا چاہے بکر کو کمپنی سے یہ رقم  وصول ہو یا نہ ہو، نیز چونکہ یہ عقد اجارہ ہے اس لئے بکر کے لئے زید کے منافع میں شریک ہونا جائز نہیں ۔

إذا لم يوجد واحد من الأمور الثلاثة السالفة الذكر يعني المال والعمل والضمان  فلا استحقاق للربح مثلا إذا قال شخص لآخر أنت اتجر بمالك على أن الربح مشترك بيننا فلا يوجب الشركة وفي هذه الصورة ليس له أخذ حصة من الربح الحاصل۔ (شرح المجلة لخالد الأتاسي،الباب الخامس،المادة:1311،ج4،ص231)

ثم الأجرة تستحق بأحد معان ثلاثة إما بشرط التعجيل أو بالتعجيل أو باستيفاء المعقود عليه فإذا وجد أحد هذه الأشياء الثلاثة فإنه يملكها۔ (الفتاوى الهندية،كتاب الإجارة،الباب الثاني،ج4،ص413)


فتویٰ نمبر : 2796/297/322

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں