بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 24/10/2026

دارالافتاء

 

نمازمیں ماثوردعاؤں کوتکرارکے ساتھ پڑھنا


سوال

کیانماز میں پڑھی جانے والی دعائیں تکرار کے ساتھ پڑھ سکتے ہیں مثلا سجدے کی حالت میں اللھم اغفرلی اللھم اغفرلی اللھم اغفرلی متعدد بار پڑھنا

جواب

 احادیث مبارکہ میں حضورﷺ سےنمازکےدوران متعدددعائیں پڑھنامنقول ہے۔نیزروایات میں آپﷺ سےبعض دعائیں تین مرتبہ پڑھنابھی ثابت ہے،چنانچہ حضرت عبداللہ بن مسعودرضی اللہ عنہ سےمروی ہے:” لَمَّا أُنْزِلَ عَلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِذَا جَاءَ نَصْرُ اللهِ وَالْفَتْحُ، كَانَ يُكْثِرُ إِذَا قَرَأَهَا وَرَكَعَ أَنْ يَقُولَ " سُبْحَانَكَ اللهُمَّ رَبَّنَا وَبِحَمْدِكَ، اللهُمَّ اغْفِرْ لِي إِنَّكَ أَنْتَ التَّوَّابُ الرَّحِيمُ " ثَلَاثًا “(مسندأحمدبن حنبل) یعنی جب سورۃ النصرنازل ہوئی توحضورﷺاس کو پڑھتےوقت اورنمازمیں رکوع کرتےوقت مذکورہ دعاتین مرتبہ پڑھتےتھے لہذاصورت مسئولہ کےمطابق ماثوردعائیں انفرادی نمازوں میں تکرارکےساتھ پڑھناجائزہے،البتہ امام کےلیےچونکہ مقتدیوں کی رعایت رکھناضروری ہے،لہذااس کومسنون تسبیحات پراکتفاکرناچاہیے۔

عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، قَالَتْ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُكْثِرُ أَنْ يَقُولَ فِي رُكُوعِهِ وَسُجُودِهِ: «سُبْحَانَكَ اللَّهُمَّ رَبَّنَا، وَبِحَمْدِكَ اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِي۔ (أخرجه البخارى،کتاب الاذان،باب التسبیح والدعاءفي السجود،رقم الحدیث:817،ج1،ص503،مكتبةالبشري)

وَمِمَّا يُسْتَفَاد مِنْهُ: اسْتِحْبَاب تَخْفيف الصَّلَاة مُرَاعَاة لحَال الْمَأْمُومين لما روى البُخَارِيّ وَمُسلم من حَدِيث الْأَعْرَج: عَن أبي هُرَيْرَة أَن النَّبِي صلى الله عَلَيْهِ وَسلم قَالَ: (إِذا صلى أحدكُم للنَّاس فليخفف، فَإِنَّمَا فيهم الضَّعِيف والسقيم وَالْكَبِير، وَإِذا صلى لنَفسِهِ فليطول مَا شَاءَ) . فَهَذَا يدل على أَن الإِمَام يَنْبَغِي لَهُ أَن يُرَاعِي حَال قومه، وَهَذَا لَا خلاف فِيه لأحد. (عمدةالقاري شرح صحيح البخاري،كتاب الاذان،باب إذاطول الإمام وكان للرجل حاجة فخرج فصلى،ج:5،ص:240،دارالإحياءالتراث العربي.)


فتویٰ نمبر : 8753/297/321

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں