بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 26/10/2026

دارالافتاء

 

مورث سے قبل فوت شدہ شخص کے پسماندگان کو میراث میں حصہ دینا


سوال

ایک آدمی مورث کی زندگی میں مرجائے تو شرعا اس کا حصہ نہیں بنتا لیکن پھر بھی اگرورثاء اس کو حصہ دینا چاہیں تو سب کی رضامندی ضروری ہے یا صرف ایک وارث دیگر ورثاء کی اجازت کے بغیر دے سکتا ہے؟

جواب

استحقاق میراث کی  شرائط  میں سے ایک شرط یہ بھی ہے کہ وارث مورث کی وفات کے وقت زندہ ہو ،چنانچہ اگر کوئی شخص مورث کی حیات میں مر جائے تو وہ وراثت کا حقدار نہیں رہتا تاہم  اگردیگر ورثاء باہمی رضامندی سے اس کے پسماندہ گان  کوکچھ دینا چاہیں تو دے سکتے ہیں البتہ کسی ایک وارث کو یہ حق حاصل نہیں کہ وہ  دوسرے ورثاء کی رضامندی کے بغیرکل ترکہ میں سے ان کو حصہ دے۔

بقاء الوارث بعد موت المورث شرط لوراثته۔(المبسوط للسرخسي،ج11،ص76)

الشرکۃ ضربان شرکۃ املاک،وشرکۃ عقود،فشرکۃ املاک العین یرثہا الرجلان او یشریانہا فلایجوز لاحد ان یتصرف فی نصیب الآخر الا باذنہ۔(البنایۃ شرح الھدایۃ،ج7،ص373)


فتویٰ نمبر : 4064/297/323

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں