بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 26/10/2026

دارالافتاء

 

گھر اور حجرہ میں بیٹیوں کو حصہ سے محروم کرنا


سوال

اگر ترکہ میں گھر، حجرہ اور کھیت شامل ہو تو بیٹیوں کو صرف کھیت میں حصہ دیا جائے گا یا پھر گھر اور حجرے میں بھی؟

جواب

تقسیم میراث سے پہلے  ترکہ میں تمام ورثاء اپنے حصے کے بقدر شریک ہوتے ہیں اور متروکہ مال میں سے ہر چیز میں تمام  ورثاء کا حق ہوتا ہے لہذا صورت مسؤلہ میں بیٹیوں کا جیسے کھیت میں حصہ بنتا ہے ویسے ہی گھر اور حجرہ میں بھی وہ اپنے حصے کے بقدر شریک ہیں صرف کھیت میں ان کو حصہ دے کر گھر اور حجرہ کے حصے سے محروم کرنا  جائز نہیں البتہ اگر باہمی رضامندی سے ایسا معاملہ طے پائے کہ بیٹیوں کا گھر اور حجرے میں جو حصہ بنتا ہے اس کے بدلے ان کو کھیت میں زیادہ حصہ دیا جائے یا پھر زائد حصے کی قیمت ان کو دےدی جائے  تو یہ جائز ہے۔                                                 

 إذَا اقْتَسَمَا دَارًا وَفَضَّلَا بَعْضَهَا على بَعْضٍ بِالدَّرَاهِمِ أو الدَّنَانِيرِلِفَضْلِ قِيمَةِ الْبِنَاءِ وَالْمَوْضِعِ أَنَّ الْقِسْمَةَ جَائِزَةٌ لِأَنَّهَا وَقَعَتْ عَادِلَةمن حَيْثُ الْمَعْنَى لِأَنَّ الدَّارَ قد يُفَضَّلُ بَعْضُهَا على بَعْضٍ بِالْبِنَاءِ وَالْمَوْضِعِ فَكَانَ ذلك تفضيلا  من حَيْثُ الصُّورَة تَعْدِيلًا من حَيْثُ الْمَعْنَى وَلَوْ لم يُسَمِّيَا قِيمَةَ فَضْلِ الْبِنَاءِ وَقْتَ الْقِسْمَةِ جَازَتْ الْقِسْمَةُ اسْتِحْسَانًا وَتَجِبُ قِيمَةُ فَضْلِ الْبِنَاءِ وَإِنْ لم يُسَمِّيَاهَا في الْقِسْمَةِ۔(بدائع الصنائع،بيان حكم القسمة،ج7،ص28) 


فتویٰ نمبر : 4067/297/323

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں