بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 19/10/2026

دارالافتاء

 

کسی ایک وارث کو اپنا حصہ دینا


سوال

اگر ورثاء میں سے کوئی خاتون اپنا حصہ کسی ایک بھائی کو دینا چاہے تو دے سکتی ہے یا نہیں ؟اور دیگر ورثاء کو اعتراض کا حق ہوگا کہ نہیں ؟

جواب

ہر شخص اپنی مملوکہ چیز کے استعمال میں خود مختار ہوتا ہے   کسی شخص کو یہ اختیار حاصل نہیں کہ کسی  کو اس کی مملوکہ چیز میں جائز تصرف سےروکے۔ورثاء میں سے کوئی وارث تقسیمِ میراث کے بعد اپنا حصہ وصول کر کے کسی کو بھی دینا چاہے تو دے سکتا ہے  لہذا کسی خاتون  کا اپنا حصہ وصول کر لینے کے بعد  کسی ایک بھائی کو دینا جائز ہے اس پر  دیگر ورثا ء کو اعتراض کا حق حاصل نہیں۔

كُلٌّ يَتَصَرَّفُ فِي مِلْكِهِ الْمُسْتَقِلِّ كَيْفَمَا شَاءَ أَيْ أَنَّهُ يَتَصَرَّفُ كَمَا يُرِيدُ بِاخْتِيَارِهِ أَيْ لَا يَجُوزُ مَنْعُهُ مِنْ التَّصَرُّفِ مِنْ قِبَلِ أَيِّ أَحَدٍ هَذَا إذَا لَمْ يَكُنْ فِي ذَلِكَ ضَرَرٌ فَاحِشٌ لِلْغَيْرِ۔(دررالحكام شرح مجلة الاحكام،الماده1192،ج3،ص210)


فتویٰ نمبر : 4066/297/323

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں