بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 23/10/2026

دارالافتاء

 

موبائل فون میں محفوظ قرآن پاک کو بغیر وضو کے چھونا


سوال

کیا فرماتے ہیں علماے کرام کہ موبائل میں موجود قرآن کریم کو بلا وضو ہاتھ لگانا جائز ہےيا  نہیں؟

جواب

واضح رہے کہ قرآن کریم کا ادب واحترام نص قرآنی سے ثابت ہےچنانچہ اللہ تعالی کا ارشاد ہے﴿لا يَمَسُّهُ إِلاَّ الْمُطَهَّرُونَ﴾  ترجمہ:اس کو وہی ہاتھ لگاتے ہیں جو پاک ہیں ، حضرات مفسرین نے روایات کی روشنی میں اس آیت کی تفسیر کے تحت لکھا ہے کہ جس طرح قر آن کریم کو ہاتھ لگانے یا اٹھانے کے لیےباطنى طہارت كى رعاىت ضروری ہے اسی طرح باوضوہونابھی ضروری ہے ،چنانچہ بغیر وضو یا جنبی شخص کے لیے قرآن کریم کے مصحف کو بغیر حائل کے ہاتھ لگانا جائز نہیں  ،تا ہم اگر بے وضو شخص کسی الگ کپڑے وغیرہ کے ساتھ قرآن کریم کو ہاتھ لگاتا ہے تو شرعاً اس کی گنجائش ہے ۔ اسی طرح فقہاے کرام نے بے وضو شخص کے لیے قرآنی آیات کے لکھنے کے بارے میں فرمایا ہے کہ اگر قرآنی آیات کو کسی صحیفہ(کاغذ ) پر لکھا جائےاور اس کو قرآن کریم کا حصہ بنایا جا رہا ہو تو شرعاً اس کے لکھنے کی گنجائش ہے بشرط یہ کہ اس صحیفہ کے ساتھ بغیر حائل کے ہاتھ نہ لگے بلکہ صحیفہ پر کوئی کپڑا وغیرہ رکھ کر اس پر ہاتھ رکھا جائے البتہ اگر عام  كاغذپر یا کسی مضمون اور تحریر کے ضمن میں آیات لکھنی ہو تو آیات کے علاوہ باقى كاغذکو بغیر حائل کے ہاتھ لگانے کی گنجائش ہے۔

صورت مسئولہ کے مطابق موبائل سکرین پر قرانی آیات (سافٹ فائل) کے جو نقوش نظر آتے ہیں ان کی حقیقت یہ ہے کہ اس میں باقاعدہ ایسے حروف موجود نہیں ہوتےجن کے لیے ثبات ودوام اور اپنا کوئی وجود ہو ، بلکہ در حقیقت یہ روشنی کی شعاعیں ہيں جومسلسل سکرین پر پڑتی ہیں اس لیے موبائل میں موجود قرآن کریم مصحف قرآنی کے حکم میں نہیں ۔ لہذا  اگر آیات قرانی اسکرین پر نظر آرہی ہوں تو بلاوضو اسکرین کو ہاتھ لگانا فی نفسہ جائز  ہے تاہم کسی شخص کا یہ ادب قابل تحسین ہے کہ وہ قرآن اسکرین پرنظر آنے کی صورت میں موبائل کو بھی  بغیر وضوکے  نہ چھوئے ، چنانچہ بعض اکابر سفید کاغذ کو بھی  بغیر وضو کے ہاتھ نہیں لگاتے تھے۔

قال اللہ تعالی :﴿لا يَمَسُّهُ إِلاَّ الْمُطَهَّرُونَ﴾ّ־(الواقعه:79)            

اختلف في {الْمُطَهَّرُونَ} من هم ؟ فقال أنس وسعيد وابن جبير : لا يمس ذلك الكتاب إلا المطهرون من الذنوب ۔ ۔ ۔ قال قتادة وغيره : {لا يَمَسُّهُ إِلاَّ الْمُطَهَّرُونَ} من الأحداث والأنجاس۔(الجامع لاحکام القرآن للقرطبی،ج9،ص225،دارالاحیاءالتراث العربی)

عن حكيم بن حزام قال : لما بعثني رسول الله صلى الله عليه و سلم إلى اليمن قال : لا تمس القرآن إلا وأنت طاهر ۔(المعجم الكبير لسليمان الطبراني،مسند حكيم بن حزام،رقم الحديث 3135 ج3 ص205)

ومنها:حرمة مس المصحف لا يجوز لهما و للجنب والمحدث مس المصحف إلا بغلاف متجاف عنه كالخريطة والجلد الغير المشرز، لا بما هو متصل به۔(الفتاوى الهندية،كتاب الطهارة ج1 ص93 )

(و) لا تكره (كتابة قرآن والصحيفة أو اللوح على الأرض عند الثاني) خلافا لمحمد. وينبغي أن يقال إن وضع على الصحيفة ما يحول بينها وبين يده يؤخذ بقول الثاني وإلا فبقول الثالث قاله الحلبي.

وقال ابن عابدين تحت قوله(على الصحيفة) قيد بها؛ لأن نحو اللوح لا يعطى حكم الصحيفة؛ لأنه لا يحرم إلا مس المكتوب منه ۔(رد المحتار مع الدر المختار،كتاب الطهارة،ج1ص317)

قال الْحَلْوَانِيُّ إنَّمَا نِلْت هذا الْعِلْمَ بِالتَّعْظِيمِ فَإِنِّي ما أَخَذْت الْكَاغَدَ إلَّا بِطَهَارَةٍ(البحر الرائق،كتاب الطهارة،باب الحيض ج1ٍص25)


فتویٰ نمبر : 4581/297/328

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں